عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 110 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 110

110 10 جب ہم نیکی کی تعریف کریں تو یہ ممکن ہے کہ ایک مذہبی شخص اور غیر مذہبی فرد میں اس کی تعریف پر اختلاف ہو۔نیکی اور خیر کے مختلف پہلوؤں میں سے اسلام کے بیان کردہ دو پہلو زیادہ اہم ہیں جن میں سے باقی تمام نیکیاں پھوٹتی ہیں۔ایک پہلو حقوق اللہ ہے اور دوسرا حقوق العباد۔ان میں سے اول الذکر کے بارہ میں ایک مذہبی شخص اور غیر مذہبی شخص میں اختلاف ہو سکتا ہے۔دوسرے پہلو میں، جو حقوق العباد کے بارہ میں ہے، کسی کو کوئی اختلاف نہیں۔حقوق اللہ اللہ تعالیٰ کی پرستش سے متعلق ہیں اور تمام مذاہب اپنے پیروکاروں کی اپنے اپنے رنگ میں راہنمائی کرتے ہیں اور حقوق العباد کے لحاظ سے مذہب اور معاشرہ دونوں انسانیت کی تعلیم دیتے ہیں۔اسلام ہمیں بڑی گہرائی اور تفصیل کے ساتھ حقوق العباد کی تلقین کرتا ہے۔ان تمام تعلیمات کا احاطہ کرنا اس وقت ناممکن ہے تاہم ان میں سے اسلام کے قائم کردہ کچھ اہم حقوق جو امن کے فروغ کے لیے معاشرہ میں ضروری ہیں میں ان کا ذکر کروں گا۔اسلام دوسرے لوگوں کی عزت اور جذبات کے احترام کا درس دیتا ہے۔ان میں مذہبی احساسات اور معاشرتی تعلقات جیسے عمومی مسائل شامل ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر ایک یہودی، جس نے ایک مسلمان کی شکایت کی تھی، کے مذہبی احساسات کا خیال کرتے ہوئے مسلمان کی سرزنش کی اور فرمایا کہ اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فوقیت کا دعوی نہیں کرنا چاہیے تھا۔اگر چہ آپ کو علم تھا کہ آخری شرعی کتاب آپ لائے ہیں۔اس طریق سے حضرت اقدس رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسروں کے احساسات کا خیال رکھتے تھے اور معاشرہ میں امن قائم فرماتے۔اسلام کی ایک اور عظیم الشان تعلیم غربا اور محروم لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کے بارہ میں ہے۔اس میں ہمیں یہ ایسے مواقع کی جستجو کی تعلیم دیتا ہے جن میں ہمیں محروم لوگوں کی بے لوث انداز میں مدد کرنی چاہیے اور اُن کا کسی صورت استحصال نہیں کرنا چاہیے۔بدقسمتی سے آج کے معاشرہ میں جہاں محروم لوگوں کی بظاہر مددکرنے کے لیے نمایاں طور پر منصوبہ اور مواقع پیدا کیے جاتے ہیں۔وہ کریڈٹ سسٹم پر مبنی ہیں۔جہاں ان کی واپسی مع سود کی جاتی ہے۔مثال کے طور پر طلبا کو ان کی تعلیم کی تکمیل کے لیے قرض دیئے جاتے ہیں یا لوگ کا روبار شروع کرنے کے لیے قرض لیتے ہیں۔تاہم ان کی ادائیگی کے لیے برسوں اور کبھی کبھی کئی عشرے گزر جاتے ہیں۔سالہا سال کی