عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 109 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 109

کیا مسلمان مغربی معاشرہ میں ضم ہو سکتے ہیں؟ 109 کچھ ذہن میں رکھتے ہوئے کیا کوئی ملک یا معاشرت یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ اپنے درمیان ایسا امن پسند مسلمان برداشت نہیں کر سکتے ؟ گزشتہ سال مجھے برلن کے میئر سے ملنے کا موقع ملا اور میں نے اُن پر واضح کیا کہ ہمیں اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم ہر قوم کے اچھے پہلو کو اپنی میراث کی طرح ہی سمجھو۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس تعلیم پر عمل پیرا ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری دنیا آپ کی حمایت میں کھڑی ہوگی۔میں بہت حیران اور افسردہ ہوا جب میں نے سنا کہ جرمنی کے بعض حصوں میں کچھ لوگ ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ نہ مسلمان اور نہ ہی اسلام یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ جرمن معاشرہ میں ضم ہوسکیں۔یقینا یہ سچ ہے کہ اسلام کی جو تصویر انتہا پسند اور دہشت گرد پیش کرتے ہیں وہ جرمنی تو کیا کسی بھی ملک اور معاشرہ میں ضم ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔در حقیقت ایک وقت یقیناً آئے گا جب ان شدت پسندانہ نظریات کے خلاف مسلمان ممالک سے بھی صدائے احتجاج بلند ہوگی اور ان حالات میں حقیقی اسلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کے آئے تھے یقینی طور پر مخلص اور نیک فطرت لوگوں کو اپنی طرف کھینچے گا۔اس دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے مبعوث کیا ہے اور اسی لیے ان کی جماعت حقیقی اسلام کی تبلیغ بھی کرتی ہے اور اس پر عمل پیرا بھی ہے۔واضح ہو کہ کسی بھی دلیل سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ حقیقی اسلام کسی بھی معاشرہ میں ضم نہیں ہوسکتا۔حقیقی اسلام تو وہ ہے جو تقویٰ اور نیکی کو پھیلاتا اور ہرقسم کی برائی اور غلط کاری کومستر دکرتا ہے۔حقیقی اسلام مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ جہاں بھی برائی اور ظلم دیکھو اس کو روکو۔سوال یہ نہیں کہ اسلام ضم نہیں ہو سکتا بلکہ حقیقی اسلام تو معاشرہ کو فطری طور پر مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچتا ہے۔اسلام تعلیم دیتا ہے کہ ہر شخص نہ صرف اپنے لیے امن حاصل کرنے کی کوشش یا خواہش کرے بلکہ وہ دوسرے لوگوں میں امن و آشتی پھیلانے کے لیے اپنی تمام کوششیں سچی ہمدردی کے ساتھ صرف کرے۔یہی بے لوث رویہ عالمی امن کے استحکام کا رستہ ہے۔کیا دُنیا میں کوئی معاشرہ ایسا ہے جو اس تعلیم کی تعریف نہ کرے اور سوچ کے اس انداز کو نہ سرا ہے؟ یقینا ایک اچھا معاشرہ اپنے اندر برائی اور بداخلاقی کے پھیلنے کی خواہش نہیں کرتا اور نیکی اور امن کے فروغ کی ہرگز مخالفت نہیں کرتا۔