عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 106

106 آبائی وطن واپس چلے جانا چاہیے۔لیکن اگر وہ وہیں رہتا ہے تو اسلام اپنے ملک سے کسی قسم کی عدم وفاداری کی اجازت نہیں دیتا۔یہ ایک قطعی اور حتمی تعلیم ہے۔اسلام کسی قسم کے باغیانہ رویہ یا اپنے ملک خواہ آبائی ہو یا اپنایا ہوا ہو، کے خلاف سازش کرنے یا کسی بھی صورت اسے نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔اگر کوئی فرد اپنے اپنائے ہوئے وطن کے خلاف کام کرتا یا اسے نقصان پہنچاتا ہے تو اس کو ملک دشمن اور غدار شمار کیا جانا چاہیے اور ملکی قوانین کے مطابق سزاملنی چاہیے۔یہ تو ایک مسلمان مہاجر کا معاملہ ہے۔اگر ایک مقامی جرمن یا کسی اور ملک کا شہری مسلمان ہو جاتا ہے تو اُس کے پاس اپنے عظیم وطن سے مطلق وفاداری کے اظہار کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ایک اور سوال جوا کثر پوچھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ایک مغربی ملک کسی مسلم ملک سے جنگ کرے تو مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے میں یہ واضح کر دوں کہ بانی جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بالوضاحت بتا دیا ہے کہ ہم ایسے زمانہ میں رہ رہے ہیں جس میں مذہبی جنگوں کا بکنی خاتمہ ہو چکا ہے۔ماضی میں مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں میں جنگیں اور لڑائیاں ہوئیں۔ان جنگوں میں غیر مسلموں کا مقصد مسلمانوں کو قتل کرنا اور اسلام کا خاتمہ تھا۔شروع شروع کی اکثر جنگوں میں غیر مسلموں نے جارحانہ اقدام اٹھانے میں پہل کی اس لیے مسلمانوں کے پاس اپنے اور اپنے مذہب کے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔تا ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے واضح کر دیا ہے کہ اب ایسے حالات نہیں رہے کیونکہ اب ایسی حکومتیں موجود نہیں ہیں جو اسلام کو نابود کرنے کے لیے اعلان جنگ کریں۔اس کے برعکس اکثر مغربی اور غیر مسلم ممالک میں بہت زیادہ مذہبی آزادی ہے۔ہماری جماعت بہت شکر گزار ہے کہ ایسی آزادیاں موجود ہیں جو غیر مسلم ممالک میں احمدی مسلمانوں کو اسلام کا پیغام پھیلانے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔اس وجہ سے ہم اس قابل ہوئے کہ مغربی دنیا کو اسلام کی حقیقی اور خوبصورت تعلیم جو کہ امن اور ہم آہنگی پر مبنی ہے سے روشناس کراسکیں۔یہ مذہبی آزادی اور رواداری ہی ہے جس کی وجہ سے آج میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں اور حقیقی اسلام کی تعلیم پیش کر رہا ہوں۔لہذا فی زمانہ مذہبی جنگوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا صرف ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے کہ ایک مسلم اکثریت یا عیسائی اکثریت والا ملک یا کوئی بھی اور ملک غیر مذہبی جنگ کرے تو ایسے ملک میں خواہ وہ ملک عیسائی ہو یا کسی اور مذہب