عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 105

کیا مسلمان مغربی معاشرہ میں ضم ہو سکتے ہیں؟ 105 اُن کو اس نئے ملک کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے سے متعلق کوئی مخمصہ پیش آتا ہے۔احمدی جہاں کہیں جائیں گے اپنے اُس وطن سے اسی طرح محبت کرتے ہیں جس طرح اُس ملک کے وفادار شہریوں کو کرنی چاہیے اور عملاً اس ملک کی ترقی اور بہتری کی کوشش کرتے ہیں۔اسلام ہی ہے جو ہمیں اس طرح جینا سکھاتا ہے اسلام ہمیں صرف اس طرز معاشرت کی نصیحت ہی نہیں کرتا بلکہ حکم دیتا ہے کہ ہم جس ملک میں رہ رہے ہوں ، اُس کے ساتھ مکمل وفاداری کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ وطن سے محبت ایک حقیقی مسلمان کے ایمان کا جزو ہے۔جب حب الوطنی اسلام کا ایک بنیادی جز و ٹھہرا تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک حقیقی مسلمان اپنے ملک سے عدم وفاداری کا مظاہرہ کرے یا اپنے ملک سے غداری کر کے اپنا ایمان ضائع کرے؟ احمدی مسلمان ہوتے ہوئے ہمارے بڑے بڑے اجتماعات میں جماعت کے تمام افراد بڑے چھوٹے ، مرد و زن سب کھڑے ہو کر خدا کو حاضر وناظر جانتے ہوئے ایک عہد کرتے ہیں اور اس میں وعدہ کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف اپنے دین بلکہ اپنی قوم اور ملک کے لیے بھی اپنی جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں گے۔لہذا ان لوگوں سے بڑھ کر اپنے ملک کا وفادار شہری کون ہو سکتا ہے؟ جن کو بار بار ملک کی خدمت کی تلقین کی جاتی ہے اور جن سے بار بار یہ عہد لیا جاتا ہے کہ وہ اپنے عقیدہ ، ملک اور قوم کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ہر دم تیار رہیں گے؟ بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ چونکہ جرمنی میں زیادہ تر مسلمان پاکستان، ترکی یا دیگر ایشیائی ملکوں سے آئے ہوئے ہیں، اس لیے جب کبھی ملک کے لیے قربانی دینے کا وقت آئے گا تو یہ لوگ جرمنی کی بجائے اپنے آبائی وطنوں کو ترجیح دیں گے۔لہذا میں بالوضاحت کہہ دوں کہ جب کوئی شخص جرمنی یا کسی اور ملک کی شہریت اختیار کر لیتا ہے تو وہ اس ملک کا مکمل شہری بن جاتا ہے۔اس سال کے شروع میں جرمن ملٹری ہیڈ کوارٹرز کوبلنز میں جب میں نے خطاب کیا تو اس سوال کا جواب دیا تھا۔میں نے یہ واضح کیا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر جرمنی کی کسی مہاجر کے آبائی وطن سے جنگ ہوتی ہے۔تو اس صورت میں اسے کیا کرنا چاہیے؟ اگر اُس مہاجر کے دل میں اپنے آبائی وطن کی خاطر ہمدردی موجود ہے اور اسے لگتا ہے کہ اس کے دل میں یہ خواہش جنم لے سکتی ہے کہ جرمنی کو نقصان پہنچے یا وہ خود جرمنی کو نقصان پہنچائے تو ایسے آدمی کو فورا اپنی شہریت ترک کر کے اپنے