عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 104
104 اگر اتفاق سے ہماری مسجد یا علاقہ میں کوئی ایسا شدت پسند داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے تو ہم فوری اقدام کرتے ہوئے اُسے عمارت سے نکال دیتے ہیں۔چنانچہ یقین رکھیں کہ آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔جماعت احمدیہ مسلمه در حقیقت ایسی جماعت ہے جس میں اگر کسی بھی وقت کسی بھی جگہ کوئی رکن شدت پسندانہ رُجحانات کا اظہار کرتا ہے۔قانون توڑتا یا امن برباد کرتا ہے تو ایسے لوگوں کا جماعت سے اخراج ہو جاتا ہے۔ہم ایسا کرنے کے پابند ہیں کیونکہ ہم لفظ اسلام کی مکمل حرمت کے قائل ہیں جس کا لغوی مطلب امن اور سلامتی ہے۔لفظ اسلام کی حقیقی نمائندگی ہماری جماعت ہی کرتی ہے۔مسیح کی بعثت ثانی کی سچی تصویر کشی چودہ سو سال پہلے ہی واضح طور پر بانی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عظیم الشان پیشگوئی میں کی تھی۔اس پیشگوئی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب اُمتِ مسلمہ کی بڑی اکثریت اسلام کی حقیقی اور اصل تعلیمات کو فراموش کر دے گی۔پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ اس وقت ایک شخص کو مبعوث کرے گا جو ایک مصلح مسیح اور مہدی کے طور پر دنیا میں اسلام کا احیاء تو کرے گا۔ہم جماعت احمد یہ مسلمہ یقین رکھتے ہیں کہ بانی جماعت حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہی وہ شخص ہیں جو اس عظیم الشان پیشگوئی کی تعمیل کے لیے مبعوث کیے گئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جماعت پھیل کر دُنیا کے دو سو دو ممالک میں قائم ہو چکی ہے۔بفضل خدا ان ممالک میں سے ہر ایک میں تمام پس منظر رکھنے والے اور تمام نسلوں سے تعلق رکھنے والے مقامی لوگوں نے احمدیت قبول کی۔وہ احمدی مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ملکوں کے وفادار شہری کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور اُن کی اپنے اپنے ملک سے محبت اور اسلام سے محبت میں کوئی تضاد یا تصادم نہیں پایا جاتا ہے۔حقیقت میں یہ دونوں وفاداریاں ایک دوسرے سے ہم آہنگ اور جڑی ہوئی ہیں۔احمدی مسلمان جہاں کہیں بھی رہتے ہیں، قانون کے سب سے زیادہ پابند شہری ہیں۔میں بلا شک و شبہ کہہ سکتا ہوں کہ ہماری جماعت کے اکثر ارکان میں یہ خصوصیات موجود ہیں۔ان ہی خوبیوں کے سبب جب کبھی احمدی ایک ملک سے دوسرے ملک میں ہجرت کرتے ہیں یا مقامی لوگ احمدی ہو جاتے ہیں تو اُن احمدیوں کو اُن نئے معاشروں میں ضم ہونے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی اور نہ ہی