عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 46

ایک اور خبر جسے حال ہی میں وسیع پیمانہ پر نشر کیا گیا وہ اسرائیلی ایجنسی موساد کے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سر براہ کا بیان ہے۔امریکہ کے معروف ٹی وی چینل (CBS) کوانٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بات کھل کر سامنے آتی جارہی ہے کہ اسرائیلی حکومت ایران پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسا حملہ ہوا تو یہ جاننا ہمارے لیے ناممکن ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ کہاں اور کیسے ہوگا؟ چنانچہ انہوں نے ایسے کسی بھی حملہ کی پُرزور مخالفت کی۔اس ضمن میں میرا خیال یہ ہے کہ ایسی جنگ ایٹمی تباہی پر منتج ہوگی۔حال ہی میں ایک اور مضمون میری نظر سے گزرا جس میں مضمون نگار نے بیان کیا کہ معاشی اور سیاسی اعتبار سے دنیا کے موجودہ حالات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے 1932ء میں تھے۔انہوں نے لکھا کہ بعض ممالک میں عوام کو اپنے سیاستدانوں یا برائے نام جمہوریت پر کوئی اعتماد نہیں۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس کے علاوہ مزید کئی مشابہتیں ایسی ہیں جنہیں اگر یکجائی صورت میں دیکھا جائے تو آج بالکل وہی تصویر ابھرتی ہے جو دوسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ تھی۔کچھ لوگ اس تجزیہ سے شاید اتفاق نہ کریں لیکن میں اُس کے اس تجزیہ سے اتفاق کرتا ہوں اس لیے میرے خیال میں دنیوی حکومتوں کو موجودہ حالات پر انتہائی تشویش اور فکر مندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔اسی طرح بعض مسلمان ممالک کے ظالم حکمرانوں کو جن کا واحد مقصد یہ ہے کہ ہر قیمت پر اقتدار سے چمٹے رہیں، ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔بصورت دیگر اُن کے اعمال اور اُن کی بے وقوفی ان کے اپنے قلع قمع کا ذریعہ بن جائے گی اور وہ اپنے ممالک کو انتہائی ہولناک تباہی کی طرف لے جائیں گے۔ہم ممبران جماعت احمد یہ حتی الوسع اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ دنیا اور انسانیت کو تباہی سے بچایا جائے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس زمانہ میں وقت کے امام کو قبول کیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود بنا کر بھیجا اور وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِینَ کے غلام کی حیثیت سے مبعوث ہوئے کیونکہ ہم اپنے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر دل و جان سے عمل پیرا ہیں اس لیے دنیا کی حالت پر ہمارے دل سخت کرب و تکلیف میں مبتلا ہیں۔انسانیت کو تباہی اور مصیبت سے بچانے کی ہماری کوششوں کے پیچھے یہی دکھ اور تکلیف کارفرما ہے۔اسی لیے خاکسار اور تمام احمدی مسلمان دُنیا میں امن کے حصول کے لیے اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔46