عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 28
28 یورپ کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس براعظم کے لوگ بھی مذہبی ستم گری کا شکار رہے ہیں جس کے نتیجہ میں ہزاروں لوگ اپنا وطن چھوڑ کر کسی دوسرے ملک ہجرت کر گئے۔عام منصف مزاج مورخین، حکومتیں اور لوگ اسے ایذا رسانی اور انتہائی ظلم قرار دیتے ہیں۔اس قسم کے حالات میں اسلامی تعلیم یہ ہے کہ جہاں مذہب کی وجہ سے زیادتیاں حد سے بڑھ جائیں اور نا قابل برداشت ہو جا ئیں تب کسی شخص کو وہ شہر یا ملک چھوڑ دینا چاہیے اور کسی ایسی جگہ ہجرت کر جانی چاہیے جہاں وہ آزادی اور امن کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل پیرا ہو سکے۔تاہم اس ہدایت کے ساتھ ساتھ اسلام یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ جیسے بھی کٹھن حالات کیوں نہ ہوں کسی فرد کو ملکی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں ہے اور نہ ہی اسے یہ حق ہے کہ وہ اپنے وطن کے خلاف کسی منصوبہ یا سازش کا حصہ بنے۔یہ اسلام کا ایک بالکل واضح اور غیر مہم حکم ہے۔شدید تکالیف کو برداشت کرنے کے باوجود لاکھوں احمدی پاکستان میں رہ رہے ہیں۔اس امتیازی سلوک اور زندگی کے ہر پہلو میں مسلسل ظلم کو برداشت کرنے کے باوجود انہوں نے اپنے ملک سے مکمل وفاداری اور کچی اطاعت کا رشتہ قائم رکھا ہوا ہے۔وہ جس شعبہ میں یا جہاں کہیں بھی تعینات ہیں، اپنے ملک کی ترقی اور کامیابی کے لیے متواتر کوشاں ہیں۔کئی دہائیوں سے مخالفین احمد بیت یہ الزام لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ احمدی پاکستان کے وفادار نہیں ہیں لیکن کبھی بھی وہ اس بات کو ثابت نہیں کر سکے یا اپنے دعوی کے ثبوت میں کوئی دلیل نہیں لا سکے۔اس کی بجائے حقیقت یہ ہے کہ جب کبھی بھی اپنے وطن پاکستان کے لیے قربانی کی ضرورت پیش آئی ہے احمدی مسلمان ہمیشہ صف اول میں دکھائی دیئے ہیں اور وطن کے لیے ہمیشہ ہر قربانی کے لیے ہمہ وقت تیار رہے ہیں۔قانون کا نشانہ بنے اور شکار ہونے کے باوجود احمدی مسلمان ہی ہیں جو کسی بھی دوسرے سے بہتر طور پر ملکی قانون کی پیروی اور پاسداری کرتے ہیں۔اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ وہ سچے مسلمان ہیں جو حقیقی اسلام پر عمل پیرا ہیں۔وفاداری کے تعلق میں ایک اور قرآنی تعلیم یہ ہے کہ لوگوں کو ہر اُس چیز سے دُور رہنا چاہیے جو غیر اخلاقی، ناپسندیدہ اور بغاوت کا کوئی پہلو اپنے اندر رکھتی ہو۔اسلام کا ایک ممتاز اور خوب صورت پہلو یہ ہے کہ اسلام ہمیں