عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 225 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 225

عالمی راہنماؤں کو خطوط 225 بعد ایک سکول میں گھس کر تین بے گناہ یہودی بچوں اور ایک معلمہ کوموت کے گھاٹ اُتار دیا ہے۔آئے دن مسلم ممالک میں بھی ایسی بہیمانہ کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں اور ایسے واقعات مخالفین اسلام کو اپنی نفرت اور کدورت کے اظہار کے لیے مواد اور وسیع پیمانہ پر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے بنیاد فراہم کرتے رہتے ہیں۔ایک مسلمان ہونے کے ناطہ سے میں پُرزور انداز میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام کسی بھی طرح کسی بھی قسم اور نوع کی زیادتی اور ظلم کو روا رکھنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔قرآن کریم ایک بے گناہ انسان کے بلاوجہ قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔یہ حکم بالکل واضح ہے اور اس میں کسی بھی قسم کا کوئی استثنا نہیں۔قرآن کریم مزید فرماتا ہے کہ اگر کوئی ملک یا قوم تمہارے ساتھ دشمنی رکھتی ہے تو پھر بھی ان کا عناد تمہیں اُن کے ساتھ معاملات کے دوران عدل و انصاف اور راست گوئی سے باز نہ رکھے۔دشمنی اور عناد تمہیں بدلہ لینے پر نہ اُکسائیں اور نہ ہی غیر منصفانہ سلوک پر مائل کریں۔اگر آپ جھگڑوں کا بطریق احسن تصفیہ چاہتے ہیں تو مسائل کا دوستانہ حل تلاش کریں۔میں متعدد مغربی ممالک کی طرف سے غریب اور ترقی پذیر اقوام کے افراد جن میں مسلمان بھی شامل ہیں کو اپنے ہاں بسنے کی اجازت دینے کے فراخ دلا نہ فیصلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔یقیناً بہت سے مسلمان آپ کے ملک میں سکونت پذیر ہیں اور وہ آپ کے ملک کے شہری بن چکے ہیں اور ان کی اکثریت قانون کا احترام کرتی ہے اور مخلص ہے۔اسلام واضح طور پر تاکید کرتا ہے کہ وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔جماعت احمد یہ مسلمہ ساری دُنیا میں اسی اُصول پر کار بند ہے اور اسی کا پرچار کرتی ہے۔میرا پیغام بھی یہی ہے کہ اگر اسی حقیقی اسلامی تعلیم کی ہر جگہ اشاعت کی جائے تو ہر ملک میں وطن سے محبت کے تقاضے بھی پورے ہوں گے اور ہر ملک میں اندرونی طور پر امن قائم ہوگا اور تمام ممالک کے مابین باہمی یگانگت کی فضا بھی قائم ہو جائے گی۔آپ اور تمام عالمی سربراہان سے میری عاجزانہ درخواست ہے کہ دوسری اقوام کی راہنمائی کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی بجائے بین الاقوامی سیاسی انصرام ، گفت و شنید اور حکمت کی راہ اپنائیں۔عالمی طاقتوں مثلاً فرانس کو قیام امن کے لیے اپنا کر دار مثبت رنگ میں نبھانا چاہیے اور انہیں دنیا کے چھوٹے ممالک کے کردار کو بہانہ بنا کر امنِ عالم کو تباہ نہیں کرنا چاہیے۔