عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 160
160 مالک، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ہدایت کے عین مطابق ہے۔آج کل ہم یہ خبریں سن رہے ہیں کہ آپ ایران پر حملہ کی تیاری کر رہے ہیں باوجود اس کے کہ عالمی جنگ“ کے مہلک نتائج آپ کی آنکھوں سے سامنے ہیں۔پچھلی عالمی جنگ میں جہاں کروڑوں دیگر لوگ لقمہ اجل بنے تھے وہاں لاکھوں یہود بھی کام آئے تھے۔اپنے ملک کا وزیر اعظم ہونے کے ناطہ آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنی قوم کی جانوں کی حفاظت کریں۔دنیا کے موجودہ حالات صاف بتا رہے ہیں کہ اب اگلی عالمی جنگ محض دو ممالک کی لڑائی نہیں ہوگی بلکہ ملکوں کے بلاک بن کر سامنے آئیں گے۔عالمی جنگ چھڑنے کا خطرہ نہایت سنجیدگی سے سامنے آرہا ہے جس سے مسلمانوں، عیسائیوں اور یہو دسب کی جانوں کو خطرہ ہے۔خدانخواستہ اگر ایسی جنگ بھڑ کی تو یہ انسانی تباہی کا ایک جاری سلسلہ ہوگا جس کا شکار آنے والی نسلیں ہوں گی جو پانچ یا معذور پیدا ہوں گی اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلی جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال ہوں گے۔میری آپ سے درخواست ہے کہ دنیا کو جنگ کے دہانہ پر پہنچانے کی بجائے اپنی انتہائی مکنہ کوشش کریں کہ انسانیت عالمی تباہی سے محفوظ رہے۔باہمی تنازعات کو طاقت کے استعمال سے حل کرنے کی بجائے گفت و شنید اور مذکرات کا راستہ اپنا ئیں تا کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو تاب ناک مستقبل مہیا کر سکیں نہ یہ کہ ہم انہیں معذوریوں کا تحفہ دینے والے ہوں۔میں اپنی معروضات کی وضاحت میں آپ کی اپنی تعلیمات سے چند حوالے پیش کرتا ہوں: پہلا اقتباس زبور سے ہے: بد کرداروں کے باعث پریشان نہ ہو اور خطا کاروں پر رشک نہ کر! کیونکہ وہ گھاس کی مانند جلد مرجھا جائیں گے اور ہرے پودوں کی طرح جلد پر مردہ ہو جائیں گے۔خداوند پر بھروسہ رکھ اور نیکی کر! ملک میں آبادرہ اور محفوظ چراگاہ کا لطف اُٹھا۔خداوند میں مسرور رہ! اور وہ تیری دلی مرادیں پوری کرے گا۔اپنی راہ خداوند کے سپر دکر ؛ اس پر اعتقاد رکھ اور وہی سب کچھ کرے گا۔وہ تیری راست بازی کو سحر کی طرح اور تیرے حق و انصاف کو دو پہر کی دھوپ کی مانند روشن کرے گا۔خداوند کے سامنے چپ چاپ کھڑارہ اور صبر سے اس کی آس رکھ ؛ جب لوگ اپنی روشوں میں کامیاب ہوں، اور اپنے برے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائیں تب تو پریشان نہ ہو۔قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے۔بے زار نہ ہو ورنہ تجھ سے بدی سرزد ہوگی۔بد کردار کاٹ ڈالے جائیں گے لیکن جن کا تو کل خداوند پر