عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 159
عالمی راہنماؤں کو خطوط بسم الله الرحمن الرحیم عزت مآب مسٹر بنیامین نیتن یا ہو وزیراعظم اسرائیل سیه و شلم محترم وزیراعظم صاحب! 159 میں نے حال ہی میں اُس خطر ناک صورت حال کے بارہ میں جو دنیا میں پیدا ہو رہی ہے اسرائیل کے صدر عزت مآب شمعون پیریز کی طرف ایک خط لکھا ہے۔دنیا میں تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے تناظر میں میں نے ضروری سمجھا کہ آپ تک بھی پیغام پہنچاؤں کیونکہ آپ اپنے ملک کی حکومت کے سر براہ ہیں۔آپ کی قومی تاریخ نبوت اور وحی الہی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔بلاشبہ انبیاء بنی اسرائیل آپ کی قوم کے مستقبل کے متعلق نہایت واشگاف الفاظ میں پیش گوئیاں کر چکے ہیں اور انبیاء کی نافرمانی اور پیش گوئیوں سے غفلت برتنے کے باعث بنی اسرائیل بڑے ابتلاؤں اور مصائب کا شکار ہوئے ہیں۔اگر آپ کی قوم کے راہنما انبیاء کی سچی اطاعت کرتے تو مختلف مصائب اور تکالیف سے بچ سکتے تھے۔دوسروں کی نسبت شاید آپ پر یہ ذمہ داری زیادہ ہے کہ آپ ان پیش گوئیوں پر کان دھریں اور انبیاء کے احکامات کی تعمیل کریں۔میں اُس مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ کی حیثیت سے آپ سے مخاطب ہوں جو حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے طور پر بھیجے گئے ہیں۔یادر ہے کہ نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مانند رحمتہ للعالمین بنا کر مبعوث کیا گیا تھا۔(استثنا باب 18 آیت 18) میرا فرض بنتا ہے کہ آپ کو خدا کا پیغام پہنچاؤں۔مجھے امید ہے کہ آپ کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی آواز پر کان دھرتے اور کامیابی سے درست راستہ پالیتے ہیں، وہ راستہ جو آسمانوں اور زمین کے