عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 140 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 140

140 40 غیر ضروری قتل و غارت گری کو دعوت نہیں دینی چاہیے۔پرانے زمانہ کی جنگوں میں زیادہ تر فوجی ہلاک ہوتے تھے اور عوام الناس کا جانی نقصان کم سے کم ہوتا تھا جبکہ آج کل کی جنگوں کے ذرائع میں فضا میں بم باری ، زہریلی گیس اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال شامل ہو چکا ہے جیسا کہ میں نے ابھی ذکر کیا ہے کہ سب سے زیادہ تباہ کن ہتھیار نیوکلیائی بم کے استعمال کا امکان بھی موجود ہے۔چنانچہ آج کل کی جنگیں پرانے زمانہ کی جنگوں سے کلیۂ مختلف ہیں کیونکہ یہ جنگیں انسانیت کو صفحہ ہستی سے کلیۂ مٹا دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اس موقع پر قیام امن کے حوالہ سے میں قرآن کریم کی خوب صورت تعلیم آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ترجمہ: ”نہ اچھائی برائی کے برابر ہو سکتی ہے اور نہ برائی اچھائی کے ( برابر )۔ایسی چیز سے دفاع کر کہ جو بہترین ہو۔تب ایسا شخص جس کے اور تیرے درمیان دشمنی تھی وہ گویا اچانک ایک جاں نثار دوست بن جائے گا۔( سورة لحم السجده : 35 ) پس قرآن کریم کی یہ تعلیم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہر قسم کی دشمنیوں اور بغضوں کو مصالحت اور باہمی گفت و شنید سے حل کرنا چاہیے۔یقیناً کسی سے نرمی اور حکمت سے بات کرنے سے اس کے دل پر بہت مثبت اور پیار بھرا اثر پیدا ہوگا اور اس سے نفرت اور کینہ ختم ہو جائے گا۔بلا شبہ ہم اس زمانہ میں خود کو بہت زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب خیال کرتے ہیں۔ہم نے متعدد بین الاقوامی رفاہ عامہ کی تنظیمیں اور ادارے قائم کر رکھے ہیں جو ماؤں اور بچوں کو صحت اور تعلیم کی سہولیات بہم پہنچاتے ہیں۔اسی طرح انسانی ہمدردی اور خدا ترسی کے تحت بے شمار دیگر تنظیمیں قائم ہیں۔بایں ہمہ ہمیں وقت کی اس اہم ضرورت پر بھی غور کرتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ کس طرح ہم خود کو اور دوسروں کو تباہی و بربادی سے بچا سکتے ہیں؟ ہمیں یا درکھنا چاہیے کہ چھ سات دہائیاں پہلے کی نسبت دنیا ایک دوسرے کے بہت زیادہ قریب آچکی ہے۔ساٹھ ستر سال پہلے نیوزی لینڈ ایشیا اور یورپ سے ایک دُور اُفتادہ ملک تھا لیکن اب یہ ایک مشتر کہ عالمی برادری کا اہم جزو ہے۔پس جنگ کی صورت میں کوئی ملک اور کوئی علاقہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔آپ کے راہنما اور سیاست دان قوم کے سر پرست ہیں جو ملک کے تحفظ ، ترقی اور بہتری کے ذمہ دار ہیں۔پس انہیں ہمیشہ یہ اہم نکتہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ مقامی جنگوں سے ہی تباہی اور بربادی دُور دُور تک پھیلتی