عالمی بحران اور امن کی راہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 264

عالمی بحران اور امن کی راہ — Page 126

126 ہمیں بہت دکھ اور تکلیف ہوتی ہے۔ہر وہ تحقیر آمیز رویہ یابات جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں کی جاتی ہے ہمارے کلیجے چھلنی کر دیتی ہے۔بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ اور مخلوق خدا کی محبت ہمارے دلوں میں بٹھائی۔آپ ہی ہیں جنہوں نے ہمارے اندر تمام بنی نوع انسان اور ہر ایک مذہب کے لیے محبت اور احترام راسخ کر دیا۔مخالفین کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امن پسندانہ تعلیم کا اس سے بڑھ کر کیا جواب اور ثبوت ہوسکتا ہے کہ جب انہیں تبلیغ کی گئی اور اسلام کا پیغام اُن تک پہنچایا گیا تو انہوں نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ آپ انہیں ظلم اور گناہ کی طرف بلا رہے ہیں بلکہ اُن کو یہ فکر تھی کہ اس طرح ان کی عزتیں اور مال خطرہ میں پڑ جائیں گے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف امن اور ہم آہنگی کی تعلیم دی تھی۔انہوں نے اس خطرہ کو تسلیم کیا کہ اگر انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو امن کی راہ اپنانے کی وجہ سے ان کے ہمسایہ قبائل یا دیگر اقوام ان کو تباہ و برباد کر دیں گی۔غرض اگر اسلام ظلم کی تعلیم دیتا اور تلوار اٹھانے اور اعلان جنگ کرنے کا حکم دیتا تو کافر ہرگز یہ جواز پیش نہ کرتے۔وہ کبھی بھی یہ نہ کہتے کہ ان کے قبول اسلام کے پیچھے یہ خوف ہے کہ اسلام کی امن پسندانہ تعلیم دنیا داروں کے ہاتھوں ان کی تباہی کا موجب بن سکتی ہے۔قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی ایک صفت السلام بیان فرمائی ہے۔یعنی اللہ سلامتی کا سر چشمہ ومنبع ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خدا واقعہ سلامتی کا سر چشمہ ومنبع ہے تو یہ سلامتی بجائے انسانوں کے کسی ایک مخصوص گروہ تک محدود ہونے کے تمام مخلوقات اور تمام بنی نوع انسان پر محیط ہونی چاہیے۔اگر خدا کی سلامتی کا مقصد محض چندلوگوں کی حفاظت کرنا ہو تو پھر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ساری دنیا کا خدا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس بات کا جواب قرآن کریم میں یوں دیا ہے: ترجمہ: اور اس کے یہ کہنے کے وقت کو یاد کرو کہ اے میرے رب ! یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔پس ( سورة الزخرف : 90 - 89) تو ان سے در گزر کر اور کہہ ” سلام پس عنقریب وہ جان لیں گے۔“ ان الفاظ سے واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت محمدرسول اللہصلی اللہ علیہ سلم ایسی تعلیم لائے جو تمام بنی نوع انسان