اُردو کی کتب (ابتدائی قواعد) — Page 88
((VV)) اُردو قواعد منع ہے اس لئے احمدی احباب حضرت مولانا نورالدین صاحب۔۔۔لکھتے ہیں۔(۷) علامت قوسین ( ) :: قوس کمان کو کہتے ہیں کیونکہ یہ علامت دو کمانوں کی طرح ہوتی ہے۔اس لئے قوسین کہا جاتا ہے۔اس کا دوسرا نام ”خطوط وحدانی“ بھی ہے۔یہ علامت جملہ معترضہ یا کسی کی تشریح کے لئے استعمال ہوتی ہے۔مثلاً عنایت کا بھائی شریف (اللہ انہیں جنت نصیب کرے) بڑا بہادر انسان تھا۔اس جملے میں عنایت کے بھائی شریف کی بہادری کا ذکر کیا گیا ہے۔جملہ معترضہ جس کا اصل مضمون سے تعلق نہیں اللہ انہیں جنت نصیب کرے) قوسین میں تحریر کیا گیا ہے۔(۲) مکہ مکرمہ (سعودی عرب ) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔اس مثال میں مکہ مکرمہ کے مزید تعارف کے لئے (سعودی عرب) قوسین میں لکھا گیا جس کا اصل عبارت سے کوئی تعلق نہیں۔(۸) علامت اقتباس ( ، ) اس بات کا نشان ہوتی ہے کہ مضمون نگار جب کسی دوسرے کی بات یا الفاظ اپنے مضمون میں لکھتا ہے تو ان الفاظ کے شروع میں دواؤ () اور آخر میں دوالٹی واؤ () لگاتا ہے تا کہ علم ہو سکے کہ یہ مضمون نگار کے اپنے الفاظ نہیں ہیں۔مثلا سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :- أَيُّهَا النَّاظِرِين ! انصاف اور ایمانا سوچو کہ آج کل اسلام کیسے تنزل کی حالت میں ہے“ (اربعین نمبر ۴ ) علامت اقتباس یا واوین شاذ طور پر کسی لفظ یا جملے کی اہمیت یا تفصیل بیان