اُردو کی کتب (ابتدائی قواعد)

by Other Authors

Page 46 of 89

اُردو کی کتب (ابتدائی قواعد) — Page 46

اردو قواعد فعل لازم - فعل مُتَعَدِّى سوال : فعل لازم اور فعل متعدی کی کیا تعریف ہے؟ جواب :: فعل کی اپنے فاعل اور مفعول کے لحاظ سے دو قسمیں ہیں: (۱) لازم (۲) سعدی فعل لازم :: وہ فعل ہے کہ فعل اور فاعل کے ذکر سے مطلب سمجھ آجائے اور بات پوری ہو جائے۔مثلاً ” زید آیا۔آیا فعل ہے۔زید فاعل ہے اور فاعل کے ذکر سے بات سمجھ آگئی۔ایسی صورت میں ” آیا فعل لازم کہلائے گا۔مزید مثالوں پر غور کریں: خالد بیٹھا، حامد خوش ہو ا، چاند چھپ گیا ، پھل پک گیا، پانی گندا ہو گیا، بچہ بڑا ہو گیا، بارش برس رہی ہے۔فعل متعدی ::وہ فعل ہے جس میں مطلب سمجھنے کے لئے فعل اور فاعل کے علاوہ مفعول کا ذکر بھی ضروری ہو۔مثلاً ” زید نے عمر کو مارا۔اس جملہ میں مارا فعل ہے، زید فاعل ہے اور عمر مفعول ہے۔پس مارا‘ متعدی فعل کہلائے گا۔کیوں کہ اگر صرف اتنا کہا جاتا کہ زید نے مارا تو کچھ سمجھ نہ آتا کس کو مارا۔اس لئے مفعول کا ذکر ضروری تھا۔مزید مثالوں پر غور کریں: خالد نے داؤد کی مدد کی۔مدد کی مسجد کی فعل ہے۔شعیب نے سبق یاد کیا۔یوسف نے درخت کاٹا۔ناصر بات سمجھ گیا ہے۔((LN)