اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 161
اُردو کی کتاب چهارم ۸۰ فٹ ہے کہا جاتا ہے کہ آگرہ کا تاج محل ہمایوں کے مقبرہ کا ہی تخیل ہے۔اسی مقبرہ سے بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کر کے رنگون بھجوا دیا گیا تھا۔حضرت شیخ نظام الدین اولیاء کا مقبرہ: حضرت شیخ نظام الدین اولیاء (۶۳۶ھ -۱۲۳۸ء) کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔بیس برس کی عمر میں علوم ظاہری کی تعلیم سے فراغت ہوئی تو علم باطنی کی تحصیل کے لئے حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں اجودھن پاکپتن حال پاکستان ) چلے گئے اور حضرت بابا صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔آپ نے ولی واپس آکر رشد و ہدایت کا کام تازیست جاری رکھا۔آپ کی وفات (۵۷۲۵ - ۱۳۲۵ء) کو دہلی میں ہوئی اور یہیں آپ کا مقبرہ ہے جو کہ ہمایوں کے مقبرہ سے قریب تین فرلانگ پر ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹ اکتوبر ۱۹۰۵ء کوحضرت شیخ نظام الدین اولیاء کے مزار پر تشریف لے گئے تھے۔افسوس حضرت شیخ صاحب جو دہلی میں قیام توحید کے علمبرداروں میں سے تھے آج اُن کی قبر شرک اور قبر پرستی کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے اللہ تعالی قبر پرست مسلمانوں کو ہدایت دے۔آمین۔حضرت امیر خسرو کا مزار : حضرت شیخ نظام الدین اولیاء کی قبر سے چند میٹر کے فاصلہ پر جانب جنوب ۱۶۱