اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 49
اُردو کی کتاب چهارم ثبوت مراد ہے۔چنانچہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان اور حضرت علی کی خلافت قائم ہوئی اس کے بعد آپ نے ملنگا عاشا کا ذور بیان فرمایا ہے جو گویا کاٹنے والا اور ظلم ڈھانے والا دور تھا یہ وہ دور تھا جس میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر گوشہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور خاندان نبوت کے کئی دوسرے افراد ظلم کا شکار ہو گئے اور اسی دور میں حضرت ابو بکر کے عالی مرتبہ نواسہ حضرت عبداللہ بن زبیر بھی شہید کئے گئے اور یہی وہ دور تھا جس میں حجاج بن یوسف کی تلوار نے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا اس کے بعد ملنگا جبریہ کا دور بیان فرمایا ہے یعنی ایسی بادشاہت جس میں سابق دور کی طرح انتہائی ظلم وستم کا رنگ تو نہ ہوگا مگر وہ اسلام کے جمہوری نظام پر قائم نہیں ہوگی بلکہ جبری رنگ کی حکومت ہوگی چنانچہ اسلام میں یہ جبری دور حکومت صدیوں تک چلتا رہا اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر دوبارہ خلافت علی منہاج نبوت کا دور قائم ہو جائے گا یعنی اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں سے کسی مقرب بندہ کو ظلتی اور ۴۹