اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 89
اُردو کی کتاب چهارم پھر آیت وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إلَّا بالله کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ دعوت الی اللہ میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب مخاطب بھڑک اٹھتے اور درپئے آزار ہو جاتے ہیں ایسی صورت میں فرمایا کہ بہترین طرز عمل یہ ہے کہ زیادتی پر صبر کیا جائے۔قول کے لحاظ سے صبر یہ ہے کہ اذیتوں کو دیکھ کر دعوت الی اللہ کا کام ترک نہیں کرنا اور نہ کسی سے خوف کھانا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ تیرہ سال تک شدید ایذاؤں کے باوجود دعوۃ الی اللہ میں مصروف رہے۔عمل کے لحاظ سے عبر یہ ہے کہ گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا۔ان حالات میں غصہ کی بجائے ہمدردی کا جذبہ پیدا ہونا چاہئے اور محبت و پیار سے سمجھاتے چلے جانا چاہئے۔احسن عمل یہ ہے کہ بدی کا جواب اچھائی اور حسن سلوک سے دو اس سے بدی خود بخود کم ہو جائے گی پھر صبر سے کام کرتے چلے جاؤ تو تمہاری استقامت میں اثر پیدا کرے گی۔محبت کا سلوک جاری ہے اور قول و فعل میں حسن برقرارر ہے تو اس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلتا ہے کہ جو پہلے جانی دشمن ہوتے ہیں وہ دلی دوست بن جاتے ہیں۔ومَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللہ میں یہ بھی فرمایا کہ خدائے تعالی کی مدد کے بغیر دعوت ۸۹