اُردو کی کتب (کتاب چہارم)

by Other Authors

Page 31 of 189

اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 31

اُردو کی کتاب چهارم باہمی جنگ و جدال کا دروازہ نہ کھلے لیکن تمام کوششیں بے کار گئیں اور فریقین میں خونریز جنگ ہو کر رہی۔حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اگر چہ حضرت عائشہ کی طرف سے جنگ کے لئے میدان میں آئے لیکن جنگ ہونے سے قبل ہی لشکر سے الگ ہو گئے تاہم کسی مخالف کے ہاتھوں مارے گئے اور حضرت عائشہ کے لشکر کی شکست ہوئی تاہم فتح کے بعد حضرت علی نے اعظم المؤمنین حضرت عائشہ کی حفاظت کا پورا اہتمام کیا اور جب وہ مدینہ جانے لگیں تو خود الوداع کہنے گئے۔چونکہ اس جنگ میں حضرت عائشہ ایک اونٹ پر سوار تھیں اس لئے اس جنگ کو جنگ جمل کہتے ہیں۔(جمل کے معنی اونٹ کے ہیں ) حضرت عائشہ کو بعد میں ساری عمر اس امر کا افسوس رہا کہ کیوں انہوں نے حضرت علی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔جنگ صفین : جنگ جمل کے بعد حضرت علی نے امیر معاویہ کو پھر ایک مرتبہ بیعت کر لینے کی تلقین کی لیکن وہ کسی طرح اس امر پر آمادہ نہ ہوئے انہوں نے عمرو بن عاص والی مصر کو اپنا ہمنوا بنایا اور جنگ کی تیاری کی اور ۸۵ ہزار کا لشکر لیکر حضرت علی کے خلاف صف آراء ہو گئے۔حضرت علی کے ساتھ بھی ۸۰ ہزار کا لشکر تھا۔سات دن ۳۱