اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 141
اُردو کی کتاب چهارم بجائے قادیان کی طرف جانے کے لیل کی طرف جو موڑ تھا ادھر چل پڑے۔تھوڑی دور گئے تھے کہ لیل کی بستی سے چار پانچ سکھ ادھر آتے ہوئے ملے وہ مسلح تھے لاٹھی اور کلہاڑی سے انہوں نے ہیبت ناک آواز میں پوچھا کون ہو کہاں جاتے ہوئیں نے کہا کہ قادیان جانا ہے اس پر ان کی آواز میں خشونت کی بجائے نرمی پیدا ہوئی اور کہا یہ تو لیل کا راستہ ہے چلو سڑک پر تمہیں قادیان کا راستہ بتادیتے ہیں مرزا صاحب کے پاس جانا ہوگا میں نے کہا ہاں سردار صاحب وہاں ہی جانا تھا یہ میرا ساتھی راستہ بھول گیا۔انہوں نے کہا اب قادیان دُور نہیں تم کو سیدھے ہی راستہ پر ڈال دیتے ہیں آنکھیں بند کر کے چلے جاؤ مرزا صاحب کے باغ کے پاس راستہ ان کے گھر کے قریب ہی نکلتا ہے۔غرض وہ سڑک پر آئے اور قادیان کے راستہ پر ہم کو ڈالا میں آج ساتھ سال کے بعد اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے دامن رحمت میں جگہ دے مجھے پر اس وقت اور آج بھی یہ اثر تھا اور ہے کہ یہ حضرت اقدس کی روحانی قوت کا تصرف تھا جن کو میں نے اس وقت دشمن سمجھا تھا اور ایسے وقت میں ان کا مسلح ہو کر نکلنا کچھ معنی رکھتا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو ۱۴۱