اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 120
اُردو کی کتاب چهارم میں بیڑی وزنی ۸ کلولگادی گئی۔آپ تقریبا چار ماہ قید با مشقت میں رہے بعد ازاں کابل کے علماء سے آپ کا ایک تحریری مناظرہ کروایا گیا جس کو مخفی رکھا گیا۔عوام کو یہ مناظرہ اس لئے نہ سنایا گیا کہ کہیں وہ صاحبزادہ صاحب کے دلائل کے قائل نہ ہو جائیں۔آخر مولویوں نے آپ کو کا فرقرار دینے کا فتویٰ جاری کیا اور سنگسار کرنے کی سزا تجویز کی جس کی بادشاہ حبیب اللہ خان اور اس کے بھائی نصر اللہ خان نے توثیق کی۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔امیر صاحب (یعنی بادشاہ) جب اپنے اجلاس میں آیا تو اجلاس میں بیٹھتے ہی پہلے اخوند زادہ (یعنی صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب ) کو بلایا اور کہا کہ آپ پر کفر کا فتویٰ لگ گیا ہے۔اب کہو کہ کیا تو بہ کرو گے یا سزا پاؤ گے تو انہوں نے صاف لفظوں میں انکار کیا اور کہا کہ میں حق سے تو بہ نہیں کر سکتا۔کیا میں جان کے خوف سے باطل کو مان لوں یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔جب شہید مرحوم نے ہر ایک مرتبہ تو بہ کرنے کی فہمائش پر تو بہ کرنے سے انکار کیا تو امیر نے ان سے مایوس ہوکر اپنے ہاتھ سے ایک لمبا چوڑا کا غذ لکھا اور اس میں مولویوں کا فتویٰ درج کیا اور اس میں یہ لکھا کہ ایسے کافر کی سزا سنگسار کرنا ہے تب وہ فتویٰ اخوند زادہ مرحوم کے گلے ۱۲۰