اُردو کی کتب (کتاب چہارم)

by Other Authors

Page 67 of 189

اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 67

اُردو کی کتاب چهارم خلافت کی۔قریبا پچاس افراد ایسے تھے جنہوں نے بیعت نہیں کی تھی اور اختلاف کا راستہ اختیار کیا۔اختلاف کرنے والوں میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب جو اپنے آپ کو سلسلہ کا عمود سمجھتے تھے پیش پیش تھے۔خلافت سے انکار اور حبل اللہ سے ناقدری کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ لوگ رسول کی تخت گاہ قادیان سے منقطع ہوئے، صدر انجمن احمدیہ سے منقطع ہوئے ، نظام وصیت سے منقطع ہوئے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت سے منکر ہوئے اور اپنے کئی عقائد ونظریات میں اس لئے تبدیلی کرنے پر مجبور ہوئے کہ شاید عوام میں مقبولیت حاصل ہو لیکن وہ بھی نصیب نہ ہوئی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا عہد خلافت اسلام کی ترقی اور بے نظیر کامیابیوں کا درخشاں دور ہے۔اس باون سالہ دور میں خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نصرتوں کے ایسے عجیب در عجیب نشانات ظاہر ہوئے کہ ایک دنیا ورطہ حیرت میں پڑ گئی اور دشمن سے دشمن کو بھی یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہ رہا کہ اس سلسلہ عالیہ احمدیہ نے غیر معمولی ترقی کی ہے اور یہ کہ امام جماعت احمد یہ بے نظیر صلاحیتوں کے مالک ہیں۔آپ کے اس باون سالہ دور میں مخالفتوں کے بہت سے طوفان اُٹھے۔اندرونی اور بیرونی فتنوں نے سراٹھایا مگر آپ کے پائے استقلال کو ذرا جنبش نہ ہوئی اور یہ الہی قافلہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اپنی منزل کی جانب ۶۷