اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 64
اُردو کی کتاب چهارم جان نصرت جہاں بیگم کے بطن سے ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء بروز ہفتہ تولد ہوئے۔الہام الہی میں آپ کا نام محمود، بشیر ثانی، فضل عمر اور مصلح موعود بھی رکھا گیا اور کلمہ اللہ نیز فخر رسل کے خطابات سے نوازا گیا۔آپ کے بارہ میں الہاما یہ بھی بتایا گیا کہ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا۔خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا وہ جلد جلد بڑھے گا اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔چونکہ آپ کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت سی بشارات ملی تھیں اس لئے حضور آپ کا بہت خیال رکھتے۔کبھی آپ کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔بچپن سے آپ کی طبیعت میں دین سے رغبت تھی دعا میں شغف تھا اور نمازیں بہت توجہ سے ادا کرتے تھے۔آپ نے ابتدائی تعلیم مدرسہ تعلیم الاسلام میں پائی۔صحت کی خرابی اور نظر کی کمزوری کے باعث آپ کی تعلیمی حالت اچھی نہ رہی اور ہر جماعت میں رعایتی ترقی پاتے رہے۔مڈل اور انٹرنس اور (میٹرک) کے سرکاری امتحانوں میں فیل ہوئے اس طرح دنیاوی تعلیم ختم ہوگئی۔اسی درسی تعلیم کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے اپنی خاص تربیت میں لیا قرآن کریم کا ترجمہ تین ماہ میں پڑھا دیا۔پھر بخاری بھی تین ماہ میں پڑھادی۔کچھ طلب بھی پڑھائی اور چند عربی کے رسالے پڑھائے قرآنی علم کا انکشاف تو محبت الہی سے ہوتا ہے مگر یہ درست ہے کہ قرآن کریم کی چاٹ حضرت خلیفہ اسیح الاول نے ہی لگائی۔جب آپ کی عمر سترہ اٹھارہ سال کی تھی تو ایک دن۔۶۴