اُردو کی کتب (کتاب چہارم)

by Other Authors

Page 10 of 189

اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 10

اُردو کی کتاب چهارم روانہ ہو گئے۔قریش کو اس لشکر کے آنے کا اس وقت علم ہوا جب وہ مکہ کے بالکل قریب پہنچ گیا۔ابوسفیان نے جو مکہ کا سردار تھا اتنا بڑا لشکر دیکھا تو اس کے اوسان خطا ہو گئے اور اسلام کا رُعب اس کے دل میں بیٹھ گیا۔حضرت عباس کے کہنے پر اس نے اسلام قبول کر لیا۔اسلامی لشکر فاتحانہ انداز میں مکہ میں داخل ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لا تشريب عَلَيْكُمُ الْيَوْم ( کہ آج تم پر کوئی الزام نہیں ) کہہ کر عام معافی کا اعلان فرما دیا اور عفو و درگذر کی ایسی مثال قائم کر دی جس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی۔فتح مکہ کے بعد اسلام بڑی تیزی سے سارے عرب میں پھیل گیا۔تاہم فتح مکہ کے بعد بھی آپ کو بعض غزوات پیش آئے جن میں غزوہ حنین اور غزوہ تبوک زیادہ معروف ہیں۔وصال ہجرت کے بعد صرف ایک مرتبہ یعنی ہجرت کے دسویں سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا جو حجتہ الوداع کہلاتا ہے۔آپ نے اس موقعہ پر ایک خطبہ دیا اور بطور وصیت آخری نصائح فرمائیں۔پھر آپ حج سے فارغ ہو کر واپس مدینہ تشریف لے گئے۔مدینہ آکر مرض الموت میں مبتلاء ہو گئے اور ۲۶ مئی ۶۳۲ ء مطابق یکم ربیع الاول گیارہ ہجری بروز پیر تریسٹھ سال کی عمر میں اس جہانِ فانی