اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 128
اُردو کی کتاب چهارم حضرت زینب کی ہجرت کے متعلق یہ روایت آتی ہے کہ جب وہ مدینہ آنے کے لئے مکہ سے نکلیں تو مکہ کے چند قریش نے ان کو بزور واپس لے جانا چاہا جب انہوں نے انکار کیا تو ایک بد بخت ہبار بن اسود نامی نے نہایت وحشیانہ طریق پر ان پر نیزے سے حملہ کیا جس کے ڈر اور صدمہ کے نتیجہ میں اسقاط ہو گیا بلکہ اس موقعہ پر ان کو کچھ ایسا صدمہ پہنچ گیا کہ اس کے بعد ان کی صحت کبھی بھی پورے طور پر بحال نہیں ہوئی اور بالآخر انہوں نے اسی کمزوری اور ضعف کی حالت میں بے وقت انتقال کیا۔حضور کے دامادا بوالعاص قریباً چار سال کے بعد 4 ھجری میں مسلمانوں کے ساتھ ایک اور لڑائی میں بمقام عیص پھر پکڑے گئے اور قیدی بنا کر مدینہ لائے گئے۔ابوالعاص نے اپنی بیوی حضرت زینب کو اطلاع بھجوائی کہ میں اس طرح قید ہو کر مدینہ پہنچ گیا ہوں تم اگر میرے لئے کچھ کر سکتی ہو تو کرو۔زینب اس وقت مدینہ میں ہی قیام پذیرتھیں چنانچہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ صبح کی نماز میں مصروف تھے زینب نے گھر کے اندر سے بلند آواز سے پکار کر کہا کہ اے مسلمانو! میں نے ابوالعاص کو پناہ دی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جو کچھ زینب نے کہا ہے وہ آپ لوگوں نے سن لیا ہوگا واللہ مجھے اس کا علم نہیں تھا مگر مومنوں کی ۱۲۸