اُردو کی کتب (کتاب چہارم)

by Other Authors

Page 127 of 189

اُردو کی کتب (کتاب چہارم) — Page 127

اُردو کی کتاب چهارم چھوڑے جائیں۔عباس کے متعلق یہ بھی روایت آتی ہے کہ جب وہ مسجد نبوی میں بندھے ہوئے پڑے تھے تو رات کے وقت ان کے کراہنے کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند نہیں آتی تھی۔انصار کو معلوم ہوا تو انہوں نے عباس کے بندھن ڈھیلے کر دیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا اگر بندھن ڈھیلے کرنے ہوں تو سب کے کرو۔عباس کی کوئی خصوصیت نہیں چنانچہ سارے قیدیوں کے بندھن ڈھیلے کر دیئے گئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ابوالعاص بھی اسیران بدر میں سے تھے ان کے فدیہ میں اُن کی زوجہ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینب نے جو ابھی تک مکہ میں تھیں کچھ چیزیں بھیجیں۔اُن میں اُن کا ایک ہار بھی تھا یہ ہار وہ تھا جو حضرت خدیجہ نے جہیز میں اپنی لڑکی زینب کو دیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو مرحومہ خدیجہ کی یاد دل میں تازہ ہوگئی اور آپ چشم پر آب ہو گئے اور صحابہ سے فرمایا اگر تم پسند کرو تو زینب کا مال اُسے واپس کر دو۔صحابہ کو اشارہ کی دی تھی زینب کا مال فورا واپس کر دیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نقد فدیہ کے قائم مقام ابوالعاص کے ساتھ یہ شرط مقرر کی کہ وہ مکہ میں جاکر زینب کو مدینہ بھجوا دیں اور اس طرح ایک مومن رُوح دار کفر سے نجات پاگئی۔کچھ عرصہ بعد ابوالعاس بھی مسلمان ہو کر مدینہ میں ہجرت کر آئے اور اس طرح خاوند بیوی پھر ا کٹھے ہو گئے۔۱۲۷