اُردو کی کتب (کتابِ دوم) — Page 46
بیسواں سبق اردو کی کتاب دوم سردار اور اس کا خادم کسی قوم کا ایک بہت دولتمند سردار تھا۔اُس کی بہت وسیع جاگیر اور زمین تھی۔ایک دفعہ اس کے کھیت سے خربوزوں کا ٹوکرا آیا۔سردار نے سوچا کہ میرا یہ خادم میری بہت خدمت کرتا ہے ، آج مجھے اُس کی خدمت کرنی چاہئے۔چنانچہ سردار نے ٹوکرے سے ایک خربوزہ لیا اور اُس کی پھانکیں کاٹ کر اپنے خادم کو دیتا گیاوہ کھا تا گیا۔پھر دوسراخر بوزہ لیا اور اُس کی پھانکیں اُسے دیتا گیا وہ کھاتا گیا ،سردار نے پوچھا خربوزوں کا مزا کیسا ہے، خادم نے جواب دیا بہت میٹھا اور لذیذ ہے۔سردار نے تیسر ا خربوزہ کا ٹا اور اس کی پھانک خادم کو دی اور پوچھا کیسا ہے؟ خادم نے کہا یہ بھی میٹھا اور مزیدار ہے۔وہ خادم کو ایک کے بعد ایک پھانک دیتا گیا اور خادم کھاتا چلا گیا۔آخری پھانک سردار نے اپنے منہ میں ڈال لی ، تو اُسے علم ہوا کہ یہ خربوزہ تو انتہائی کڑوا اور بدمزا ہے۔سردار نے خادم سے پوچھا تو نے اتنا کڑ وہ خربوزہ کیسے کھایا ؟ خادم نے جواب دیا: جس سردار کے ہاتھ سے میں نے میٹھے خربوزے کھائے ، اگر ایک کڑوا بھی آ گیا ، تو اس میں شکایت اور منہ بنانے کی ضرورت نہ تھی۔اُسے بھی میں نے میٹھا سمجھ کر کھا لیا۔۴۶