حضرت اُمّ حبیبہ ؓ — Page 13
حضرت ام حبيبة رض 13 نیکی اور مرتبے میں آپ ﷺ کے قابل ہوتی تو آپ نے خود اُس کا سہارا بن جاتے۔ابو سفیان کو اپنی بیٹی ام حبیبہ پر بڑا ناز تھا ایک دفعہ کہا:۔" میرے ہاں عرب کی حسین ترین اور جمیل ترین عورت موجود ہے (19) یہ حسین و جمیل بیٹی جب اُس شخص کی بیوی بن گئی جس کا وہ جانی وو دشمن تھا تو بے اختیار اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے۔هُوَ الْفَحْلُ لَا يُجْرَعُ اَنْفُهُ یعنی محمد ملا ہے ایسے جواں مرد ہیں کہ اُن کو نیچا نہیں دکھایا جا سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام حبیبہ کو انتہائی پیار، عزت اور شفقت سے رکھا۔آپ سے حبشہ کی باتیں شوق سے سُنا کرتے۔خاص طور پر اصحمہ نجاشی کے نکاح کے انتظام کرنے اور خطبہ نکاح کے متعلق بہت دفعہ باتیں ہوتیں پھر ابرہہ کا ذکر بھی رہتا جس نے بڑے شوق سے سارے کام کئے۔پھر حضرت اُمّ حبیبہ نے آپ ﷺ کو ابرہہ کے اسلام لانے اور آپ علیہ سے محبت کا بھی بتایا اور یہ بھی کہ کتنی دفعہ تاکید کی تھی کہ اُس کا سلام آپ ﷺ کو پہنچاؤں آپ ﷺ نے فرمایا: وعليها السلام و رحمة الله و بركاته