حضرت اُمّ حبیبہ ؓ — Page 12
حضرت ام حبيبة رض 12 سے بہت خوش تھے اور کامیاب و با مراد مدینہ واپس تشریف لا رہے تھے۔(17) جب یہ قافلہ مدینہ پہنچا تو اہم حیہ مدینہ ہی ٹھہر گئیں جب کہ قافلہ کے بعض افراد جو کہ چودہ سال سے بچھڑے ہوئے تھے بے قرار ہو کر آپ معدے کے استقبال کے لئے شہر سے باہر تک گئے آپ ﷺ نے حضرت جعفر بن ابی طالب کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اُن کا ماتھا چوما۔(18) اس شادی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ایک بہت پیارا پہلو سامنے آتا ہے۔آپ کے سارے جہان کے لئے رحمت بنائے گئے ہیں آپ سے کسی کوغم زدہ اور بے سہارا نہ دیکھ سکتے تھے۔دردبٹانے کا حوصلہ رکھتے تھے اور بڑی حکمت سے سب مسلمانوں کی ذمہ داری ادا کرتے تھے۔بار ہا ایسا ہوا کہ آپ نے کسی مسلمان عورت کی تنہائی اور تکلیف کا سنتے خاص طور پر جنہوں نے اسلام کے لئے دُکھ اُٹھائے ہوں تو آپ ﷺ اپنے کسی صحابی سے ارشاد فرماتے کہ تم اس سے شادی کر لو۔سادہ زمانہ تھا تکلفات نہ ہوتے تھے۔ایک خاتون کو چھت اور شوہر کی حفاظت مل جاتی اس سے بہت سے مسئلے پیدا ہی نہ ہوتے۔اگر کوئی خاتون