حضرت اُمّ حبیبہ ؓ

by Other Authors

Page 3 of 30

حضرت اُمّ حبیبہ ؓ — Page 3

حضرت ام حبيبة رض 3 مکہ کے کان کھڑے ہوئے۔پھر یہ ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور یہ بات پھیل گئی کہ اب بات مکہ کے کمزور لوگوں تک نہیں رہی۔حضرت عمر جیسے بہادر نڈر رئیس بھی اسلام میں شامل ہو گئے ہیں تو کھلم کھلا مخالفت کرنے لگے۔اور طرح طرح کی تکلیفیں دینے لگے اور جب بھی مسلمان کسی سے اسلام کی بات کرنا چاہتے وہ کسی کو سننے نہ دیتے یہ تو ہم سب کو پتہ ہے کہ ہر نبی کی مخالفت ہوتی ہے۔ہر نبی کے ماننے والوں کو تکلیفیں دی جاتی ہیں۔جب مکہ والوں کا ظلم انتہا کو پہنچ گیا تو محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو بلایا اور فرمایا مغرب کی طرف سمندر پار ایک زمین ہے۔جہاں خدا کی عبادت کی وجہ سے ظلم نہیں کیا جاتا مذہب کی تبدیلی کی وجہ سے لوگوں کو قتل نہیں کیا جاتا وہاں ایک منصف بادشاہ ہے تم لوگ ہجرت کر کے وہاں چلے جاؤ شاید تمہارے لئے آسانی کی راہ پیدا ہو جائے کچھ مسلمان مرد، عورتیں اور بچے ، آپ ﷺ کے اس ارشاد پر ایسے سینیا کی طرف چلے گئے ان لوگوں کا مکہ سے نکلنا کوئی معمولی بات نہ تھی مکہ کے لوگ اپنے آپ کو خانہ کعبہ کا متولی سمجھتے تھے اور مکہ سے باہر چلے جانا اُن کے لئے ایک نا قابل برداشت صدمہ تھا۔وہی شخص یہ بات کر سکتا تھا جس