حضرت اُمّ حبیبہ ؓ — Page 21
حضرت ام حبيبة رض 21 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا اللہ تعالی اور آخری دن پر ایمان لانے والی کسی عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مرنے والے کا سوگ کرے البتہ بیوی اپنے خاوند کے مرنے پر چار ماہ دس دن سوگ میں گزارتی ہے۔(24) اس بیان سے اسلام میں مرنے والوں پر سوگ کے حکم واضح ہو گئے۔زمانہ جاہلیت میں یعنی اسلام سے پہلے سوگ منانے کے متعلق بھی بڑی خراب رسمیں تھیں۔حضرت اُم حبیبہ کی ایک روایت سے اسلام میں موجود ایک بہت بڑے مسئلے کا حل بھی ملتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب سورہ نصر نازل ہوئی تو اس کے مطالب سے یہ اشارہ ملتا تھا کہ آنحضرت ﷺ جن کاموں کے لئے اس دنیا میں موجود تھے وہ ختم ہو چکے ہیں آپ نے بتایا کہ " حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی گئی تھی کہ آپ ﷺ کی عمر حضرت عیسی کی عمر سے نصف ہوگی اور حضرت عیسیٰ کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔اپنی بیویوں کے دل میں توحید باری تعالیٰ کی عظمت کا خیال آپ ﷺ کو بوقت وفات بھی تھا۔آپ کی آخری بیماری میں جب کسی بیوی نے حبشہ کے ایک گرجے کا ذکر کیا جو ماریہ (حضرت مریم) کے نام