حضرت اُمّ حبیبہ ؓ — Page 22
حضرت ام حبيبة رض 22 سے موسوم تھا تو اپنی بیماری کی تکلیف دہ حالت میں بھی آپ علیہ نے بیویوں کی توجہ تو حید باری کی طرف مبذول کرواتے ہوئے فوراً گفتگو کا رُخ دوسری طرف موڑ دیا اور فرمایا بُرا ہو ان یہودیوں اور عیسائیوں کا جنہوں نے اپنے نبیوں اور بزرگوں کے مزاروں کو سجدہ گاہ بنالیا ہے۔(25) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد خلفائے راشدین نے امہات المؤمنین کے مقام اور مرتبے کے مطابق اُن کو بے حد عزت دی۔حضرت عمرؓ نے اپنی عمر کے آخری سال ازواج مطہرات کو کمال حفاظت کے ساتھ حج کروایا پھر حضرت عثمان نے ان کی خواہش پر خود ساتھ جا کر حج کروایا۔حضرت عثمان کے عہد میں حضرت اُم سلمہ ، حضرت میمونہ اور حضرت ام حبیبہ کو حج کی سعادت نصیب ہوئی۔امہات المؤمنین کو مکمل پردے میں حج کروایا گیا۔(26) پیارے بچو! دل تو کرتا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی باتیں کرتے رہیں۔نیک بیویوں کی باتیں ، آپس میں پیار محبت سے رہنے کی باتیں، نیکی میں آگے بڑھنے اور خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کی دوڑ کی باتیں ، آپ کو شوق پیدا ہو گیا ہے اب آپ خود ایسی کتب کا مطالعہ کریں اور اپنی معلومات بڑھائیں اور اس طرح سوچنے کی عادت ڈالیں کہ ہر