حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ

by Other Authors

Page 5 of 27

حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 5

اُم المؤمنین حضرت ام سلمی 5 لے کر مدینہ کی طرف اکیلے ہی روانہ ہو گئیں۔جب حضرت ام سلما تنعیم کے مقام پر پہنچیں تو عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہوئی۔اُن کے اُم سلمیٰ اور ان کے خاوند سے بڑے اچھے تعلقات تھے۔اُس نے آپ سے پوچھا کہ کدھر کا ارادہ ہے۔حضرت اُم سلمی رضی اللہ عنھا نے جواب دیا مدینے کا۔پوچھا کوئی تمہارے ساتھ ہے۔جواب میں بولیں ”خدا تعالیٰ اور یہ بچہ عثمان بن طلحہ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے نے کہا ” تم تنہا کبھی نہیں جاسکتیں۔“ یہ کہہ کر اونٹ کی مہار ( رسی) پکڑ لی اور مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔آپ رضی اللہ تھا اس سفر کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں۔میں نے ایسا شریف انسان کبھی نہیں دیکھا۔راستے میں جب کہیں ٹھہر نا ہوتا تو اونٹ کو بٹھا کر خود عثمان کہیں دور درخت کے نیچے چلا جاتا اور روانگی کا وقت آتا تو کجا وہ اونٹ پر رکھ کر دور ہٹ جاتا اور کہتا کہ اب سوار ہو جاؤ۔غرض مختلف منزلوں پر قیام کرتے ہوئے جب یہ لوگ قبا کے مقام پر پہنچے تو عثمان نے حضرت اُم سلمی رضی اللہ عنھا سے کہا کہ لو اب تم اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ وہ یہیں مقیم ہیں۔اور عثمان نے واپس مکہ کا راستہ لیا۔حضرت ام سلمی رضی اللہ تھا جب مدینہ پہنچیں اور لوگوں کے پوچھنے پر اپنے باپ کا نام بتا تیں تو لوگ یقین ہی نہ کرتے کیونکہ انہیں یقین نہ آتا کہ اتنے معزز گھرانے کی بیٹی اکیلا سفر کر سکتی ہے۔اس زمانے میں عورت کے تنہا