حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 6
أم المؤمنین حضرت ام سلمى 6 سفر کا تصور ہی نہیں تھا مگر آپ رضی اللہ عنھا نے تو حکم رسول علی کے تحت ہجرت مدینہ کی۔آپ لوگوں کی حیرت پر خاموش ہو جاتیں۔جب حج کا زمانہ آیا اور ام سلمیٰ نے اپنے گھر والوں کو خط بھیجا تب لوگوں کو یقین آیا کہ یہ ابی امیہ کی بیٹی ہیں۔چونکہ ابی امیہ مکہ کے معزز شخص تھے چنانچہ ام سلمی کی عزت مدینے والوں کی نظروں میں اور بھی بڑھ گئی۔(8) ย ام سلمیٰ رضی اللہ عنھا نے کچھ عرصہ خاوند کے ساتھ مدینہ میں گزارا۔یہاں خدا تعالیٰ نے آپ کو ایک اور بیٹے اور دو بیٹیوں سے نوازا۔حضرت ابوسلی ایک جانباز، بہادر سپاہی اور شہ سوار تھے۔آپ رسول کریم اللہ کے ساتھ غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک ہوئے۔غزوہ احد میں آپ کا بازو ایک زہریلے تیر سے شدید زخمی ہو گیا۔علاج الله معالجے سے وقتی طور پر زخم کچھ ٹھیک ہو گیا۔آپ کو حضور ﷺ نے ایک دستے کا امیر بنا کر بھیجا۔واپس آئے مگر وہ زظم دوبارہ بگڑ گیا اور اُسی کے اثر سے 4 ہجری میں آپ نے وفات پائی۔(7) نزع کے وقت جب آنحضور ما اے ابو سلمی کے گھر پہنچے تو اپنے محبوب پر نظر پڑتے ہی روح پرواز کر گئی۔آنحضور اللہ نے اپنے دست مبارک سے آپ کی آنکھیں بند کیں اور ان کی مغفرت کے لئے دُعا کی۔حضرت اُم سلمی رضی اللہ عنھا اور ہی تھیں اور کہتی جاتی تھیں کہ "ہائے غربت میں