حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ

by Other Authors

Page 3 of 27

حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 3

أم المؤمنین حضرت ام سلمى 3 انہوں نے سُنا کہ اب مکہ میں حالات بہتر ہو گئے ہیں تو واپس مکہ کی طرف چل پڑے۔یہاں کوئی کر علم ہوا کہ خبر تو خالی تھی اور حالات اور بھی خراب ہو چکے ہیں۔اسی لئے اُم سلمی رضی اللہ عنھا اور ابوسلمی رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف دوبارہ ہجرت کی۔(5 نبوی اور 6 نبوی میں )۔(3) عرب میں یہ رواج تھا کہ شہر کے معزز سمجھے جانے والے لوگ اگر کسی کو اپنی پناہ میں لے لیتے تو پھر کوئی بڑے سے بڑا دشمن بھی اُس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا اور اگر ایسا کرتا تو دونوں کے قبیلے آپس میں با قاعدہ جنگ شروع کر دیتے۔پہلی دفعہ جب یہ دونوں میاں بیوی مکہ واپس آئے تو مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری تھا۔اُس وقت آنحضور ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب نے ان دونوں میاں بیوی کو پناہ دی۔(4) صلى الله مکہ میں جب کفار کے مظالم حد سے بڑھ گئے تو آنحضور ﷺ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کر جانے کی اجازت دی۔اس زمانہ میں ہجرت کرنا بھی انتہائی مشکل اور تکلیف دہ تھا۔پھر بھی ہجرت مدینہ کا حکم سُن کر آنحضور ﷺ کی اجازت سے دونوں میاں بیوی اپنے ننھے بیٹے سلمی کو جو خدا نے انہیں ہجرت حبشہ کے دوران دیا تھا، ساتھ لے کر مدینہ کے لئے روانہ ہونے لگے۔ایک ہی اونٹ تھا جس پر ابوسلمی نے دونوں کو سوار کیا اور خود اونٹ کی نکیل پکڑ کر چلنے لگے۔جو نہی یہ خبر ام سلمی کے قبیلے والوں کو پہنچی تو