حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ

by Other Authors

Page 2 of 27

حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 2

اُم المؤمنین حضرت ام سلمى 2 ہوا۔لیکن وہ بھی اپنے نام سے زیادہ اپنی کنیت ابوسلمی سے ہی مشہور ہوئے۔ابو سلمی کو ایک خصوصیت یہ بھی حاصل تھی کہ آپ نہ صرف آنحضور نے کے رضاعی بھائی تھے بلکہ بڑہ بنت عبد المطلب کے بیٹے ہونے کی وجہ سے صل الله آپ لے کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے۔(2) الله جب رسول کریم ﷺ نے نبوت کا دعوی کیا۔مکہ شرک و بت پرستی کا گہوارہ تھا۔شراب عام تھی اور کوئی بڑی سے بڑی برائی بھی بُرائی نہیں بلکہ فخر سمجھی جاتی تھی۔ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے ان دونوں میاں بیوی کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دی۔گویا یہ دونوں پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھے۔یعنی آپ دونوں اُس وقت ایمان لائے جب باقی لوگ اسلام کے متعلق شک میں پڑے ہوئے تھے۔یہی وجہ تھی کہ ان کے قبیلے والے ان کے دشمن ہو الله گئے۔جب آنحضرت علی نے کفار مکہ کے مظالم دیکھے تو آپ اے نے اپنے صحابہ کو اجازت دی کہ جو شخص اپنے دین اور جان کو بچانے کے لئے ہجرت کرنا چاہے وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر لے۔چنانچہ ان دونوں میاں بیوی نے 5 نبوی کو سب سے پہلے حبشہ ہجرت کی۔حبشہ کا بادشاہ ایک نیک فطرت انسان تھا۔اس نے مکہ کے ستائے ہوئے مسلمانوں کو پناہ دی لیکن اپنے ملک سے دور اور سب سے بڑھ کر اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ سے دوری صحابہ کو ہرگز منظور نہ تھی۔جو نہی