حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ

by Other Authors

Page 19 of 27

حضرت اُمّ سلمیٰ ؓ — Page 19

أم المؤمنین حضرت ام سلم کی آواز کا وقت ہے سو مجھے بخش دے دے۔(38) 19 الحضور اللہ کو ان سے اس قدر محبت تھی کہ ایک مرتبہ جب اُم سلمی صلى الله صل الله نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! قرآن میں عورتوں کا ذکر کیوں نہیں تو آپ معہ منبر پر تشریف لے گئے اور یہ آیات تلاوت فرمائیں۔إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُومِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ سورت الاحزاب آیت 36 ( مسند احمد ) - (39) اُم سلمی رضی اللہ عنھا اپنے والد کی طرح بے حد سخی تھیں اور دوسروں کو بھی سخاوت کی تلقین کرتیں۔یہ ناممکن تھا کہ ان کے گھر سے کوئی سائل خالی ہاتھ چلا جائے۔تھوڑا بہت جو کچھ ہوتا اُسے دے دیتیں۔ایک مرتبہ چند مساکین جن میں عورتیں بھی تھیں ان کے گھر آگئے۔بڑی لجاجت سے سوال کیا۔اس وقت ایک خاتون ام الحسین بھی آپ رضی اللہ علہ کے پاس بیٹھی تھیں۔انہوں نے مانگنے والوں کو ڈانٹا تو اُم سلمی رضی اللہ عنھا نے فرمایا۔ہمیں اس کا حکم نہیں ہے۔ان کو خالی ہاتھ نہ جانے دو۔کچھ نہ کچھ دے دو خواہ ایک کھجور ہی ہو۔حضرت عبدالرحمن بن عوف روایت کرتے ہیں کہ میرے پاس بہت سا مال اکٹھا ہو گیا حتی کہ مجھے بربادی کا ڈر پیدا ہو گیا۔میں حضرت اُم سلمی" کے پاس گیا تو آپ رضی اللہ مانے فرمایا اسے خرچ کر دو۔میں نے رسول کریم میے کو کہتے سُنا ہے کہ میرے صحابہ میں کچھ ایسے بھی ہیں جو مجھ کو میری موت کے بعد پھر بھی نہیں دیکھیں گے۔(40)