حضرت اُمّ طاہر

by Other Authors

Page 24 of 47

حضرت اُمّ طاہر — Page 24

سیرت حضرت سیدہ مریم النساء ( أم طاہر صاحبہ ) جان ( حضرت امتہائی صاحبہ کے بچے آپ ( ام طاہر ) کو " آپا جان کہا کرتے تھے ) کی چیخیں نکلتی تھیں۔یہ انہیں کہیں دور سے بلانے کے لئے نہیں ہوتی تھی کیونکہ اکثر ایسے وقت میں اُن کا سر خود اُمّم طاہر صاحبہ کی گود میں ہوا کرتا تھا اور ہر شیخ کے جواب میں وہ سہی جواب دیا کرتی تھیں کہ رشید میں یہیں ہوں دیکھو تم میری گود میں ہو۔یہ بچے تو انہوں نے ماں بن کر پالے ہی تھے ویسے بھی دوسرے رشتے داروں سے بھی خاص محبت کرتی تھیں اور بڑے اخلاق سے پیش آتی تھیں اگر کوئی عزیز بیمار ہو جاتا تو اس کی اس طرح خدمت اور تیمار داری کرتیں کہ اپنے آرام کو بھول جایا کرتیں۔چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ جب میری لڑکی امتہ السلام سخت بیمار ہوئیں تو اُمم طاہر صاحبہ پورے تین دن رات قریباً مسلسل اس کے سرہانے لگی بیٹھی رہیں اور تیمارداری کے نازک فرائض کو اس محبت اور اخلاص کے ساتھ ادا کیا کہ میرے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلتی تھی۔یہی سلوک ان کا دوسرے عزیزوں کے ساتھ تھا اور حضرت صاحب خلیفہ اسیح الثانی کی بیماری میں تو ان کی خدمت اور جانثاری انتہاء کو پہنچ جاتی تھی۔آخر کار جس کی زندگی کا ایک قابل ذکر حصہ دوسروں کی تیمار داری کے لئے وقف رہا وہ خود بہت سخت بیمار ہوگئیں آپ کی صحت تو عموماً اچھی نہیں رہتی تھی گوہ بعض دنوں میں بظاہر اچھی نظر آنے لگتی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی آپ کی وفات سے کچھ عرصہ پہلے کچھ ڈلہوزی تشریف لے گئے تھے جاتے جاتے حضور نے موسم سرما میں غرباء کی تقسیم 24