حضرت اُمّ طاہر — Page 20
سیرت حضرت سیدہ مریم النساء ( ام طاہر صاحبہ ) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد آپ کی انتظامی قابلیت کا ذکر کرتے ہوئے ایک بہت دلچسپ واقعہ بیان فرماتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی عموماً خاص موقعوں کے انتظامات انہی کے سپر دفرمایا کرتے تھے۔مثلاً گھر کی خاص دعوتوں کا انتظام انہی کے سپرد ہوتا تھا۔یا کوئی خاص مہمان آجاتا تو اس کی مہمانی کا انتظام بھی زیادہ تر ان کے سپرد کیا جاتا تھا یا اگر کوئی سفر کی تیاری کرنی ہوتی تھی تو ایسے سفر کی تیاری کی انچارج بھی بالعموم وہی ہوا کرتی تھیں۔چنانچہ اس وقت مجھے گزشتہ سفر ڈلہوزی کا ایک چھوٹا سا گھر یلو واقعہ یاد آ گیا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی چونکہ گزشتہ سال ایک لمبی بیماری سے اُٹھے تھے اس لئے قیامِ ڈلہوزی کے آخری ایام میں حضور نے صحت کے خیال سے بعض تفریحی سیروں کا انتظام فرمایا تھا۔ان سیروں میں سے آخری سیر کا لاٹوپ پہاڑ تک تھی جو ڈلہوزی سے قریباً چھ سات میل چنبہ کی جانب واقع ہے۔مستورات کے لئے عموماً گھوڑوں کا انتظام تھا اور مرد پیدل تھے اور ٹرپ کا انتظام بدستور سیّدہ اُمم طاہر کے ہاتھ میں تھا۔چونکہ سیدہ موصوفہ نے انتظام وغیرہ کی وجہ سے سب سے آخر میں آنا تھا اس لئے میں نے دیکھا کہ جب ہم اپنے گھروں سے ایک میل نکل آئے تو سیدہ مرحومہ والے گھوڑے پر ان کی بجائے ہماری بڑی ممانی۔20 20