حضرت اُمّ طاہر — Page 19
سیرت حضرت سیدہ مریم النساء ( ام طاہر صاحبہ ) کرایا اور پھر انہی کے زور دینے پر جھنڈا تیار کرایا گیا۔اور خواتین کے جلسہ میں اس کا نصب ہونا اور لہرانا سب کچھ انہی کی کوشش کا نتیجہ تھا ورنہ ہمارے پاس وقت اتنا تنگ ہو چکا تھا کہ اس کام کے ہونے کی مجھے کوئی صورت ہی نظر نہ آتی تھی۔یہ جھنڈا سیدہ ام طاہر کی جماعتی سعی کا ایک مجسمہ ہے۔جس وقت تک لجنہ اور احمدی خواتین کا مرکزی انتظام قائم رہے گا ان کی یہ یادگار بھی زندہ رہے گی۔انشاء اللہ " نیز فرماتے ہیں: 66 اس کے علاوہ لوائے احمدیت یعنی جماعت احمدیہ کا جھنڈا تیار ہوا۔اس میں بھی ہماری اس بہن کا وافر حصہ ہے۔حضرت صاحب ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی) کے ارشاد سے یہ عالمگیر جھنڈا صحابہ اور صحابیات کے بابرکت ہاتھوں سے تیار ہوا۔صحابیات نے اس کے لئے سوت کا تا مگر یہ کتو ایا کس نے ؟ ہماری بہن نے۔میرے درخواست کرنے پر انہوں نے صحابیات کی فہرست تیار کروائی پھر ان کو اطلاع کروائی اور چرخوں کا انتظام فرمایا۔اور اس طرح دار المسیح میں سب سوت کتو ا کر وقت پر مجھے بھجوا دیا۔پس جماعت کے قومی جھنڈے کی تیاری میں بھی حضرت اُمم طاہر کا ہاتھ کام آیا۔کیا ہی مبارک تھا وہ وجود جو جماعت کے کاموں میں اتنا حصہ لیتا تھا فجزاها اللہ احسن الجزاء 13 19