حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ — Page 12
حضرت ام سلیم 12 نے حق ادا کر کے دکھا یا ان میں سے ایک امر سلیمہ بھی تھیں۔(17) مدینہ کے ابتدائی دنوں کی بات ہے ایک روز ابو طلحہ ام سلیمہ کے الله پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے حضور ﷺ کی آواز میں کمزوری محسوس کی ہے۔لگتا ہے کہ حضور ہم مسلسل فاقہ سے ہیں۔کیا تمہارے پاس گھر میں کھانے کے لئے کچھ ہے ؟ ام سلیم نے کہا ، ہاں اور پھر فوراً کچھ روٹیاں ایک کپڑے میں لپیٹ کر اپنے پیارے بیٹے انس کے ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجواد ہیں۔انس کہتے ہیں ، میں مسجد صلى الله نبوی میں حضور ﷺ کے پاس گیا۔آپ ﷺ اپنے صحابہ میں تشریف فرما تھے۔میں سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔حضور ﷺ نے فرمایا ، کیا ابوطلحہ نے تمہیں کھانے کی کوئی چیز دے کر بھیجا ہے۔انس نے عرض کی ، جی صلى الله صلى الله ہاں ! اے اللہ کے رسول علﷺ۔رسول اللہ ﷺ نے تمام حاضرین مجلس سے فرمایا کہ چلو ابوطلحہ کی طرف چلیں۔انس کہتے ہیں کہ میں نے جا کر الله ابوطلحہ کو بتایا کہ حضور ﷺ صحابہ کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں۔ابوطلحہ صلى الله نے ام سلیم کو بتایا کہ حضور علیہ تشریف لا رہے ہیں اور ہمارے پاس کھانے کا مناسب انتظام نہیں ہے۔ام سلیم نے بڑے تو کل سے جواب الله دیا کہ اللہ اور اس کا رسول علے بہت بہتر جانتے ہیں۔تب ابوطلحہ بھی