حضرت اُمِّ سُلَیم ؓ — Page 4
حضرت اُم سلیم نومولود بچہ بھی شوق سے کجھور چوسنے لگا ہے۔حضور میلے نے اس بچے کا لگا۔نام عبد اللہ رکھا اور اس کے لئے برکت کی دعا کی۔روایت ہے کہ عبداللہ کے نو بیٹے ہوئے اور وہ سب کے سب قرآن کے حافظ تھے۔ام سلیم کی سیرت کا دلکش اور اہم پہلوان کا حضور ﷺ کی دعاؤں پر کامل یقین ہے۔کتنے اہتمام سے وہ اپنے نومولود بچے کو برکت اور دعا کے حصول کے لئے ا۔حضور ﷺ کی خدمت میں بھجواتی ہیں تا کحضور ﷺ کی دعاؤں سے صلى الله فیضیاب ہو سکیں۔(5) ام سلیم کو خود بھی دعاؤں سے اتنا شغف تھا کہ ایک دفعہ انہوں نے خود حضور یا اللہ سے عرض کیا کہ مجھے کچھ کلمات سکھا ئیں جو اپنی دعاؤں میں پڑھا کروں اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ: تم دس دفعہ سبحان اللہ دس دفعہ الحمد للہ اور دس دفعہ اللہ اکبر کہو ، پھر جو دعا کرو گی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا۔‘ (6) صلى الله دس سال کی عمر میں ان کی والدہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرنے کے لئے آپ ﷺ کے پاس لے گئیں اور حضور مینے سے عرض کیا، یا رسول اللہ یہ سوائے میرے ہر انصاری مرد یا عورت نے آپ کو کوئی نہ کوئی تحفہ دیا ہے۔میرے پاس بس میرا یہی بچہ ہے۔اگر آپ سے اسے قبول فرما لیں تو مجھے بے حد خوشی ہوگی۔حضور اللہ نے