حضرت سرور سلطان صاحبہ — Page 7
حضرت اُمّ مظفر 7 وفات کا دُکھ تھا۔مگر خدا کی رضا پر راضی تھیں، صحن سے اندر کمرے میں تشریف لائیں اور اپنی بہو کو گلے لگا یا اور فرمایا رونا نہیں ، چیخ مارتا بیتاب ہونا! یہ تواللہ تعالیٰ اپنے محسن اور خالق سے لڑائی ہے کہ " تو نے ہمارا بچہ کیوں لیا !“ وہ حکیم و علیم ہے! اگر نہ دیتا تو اس پر کیا شکوہ ؟ اور اگر ہمیں اس قابل نہیں سمجھا کہ یہ بچہ ہمارے ہاں رہتا تو اس کی یہ مین حکمت ہے۔اس نے ایک نعمت واپس لینے پر بشرط صبر و رضا نعمتوں کا وعدہ فرمایا ہے۔بس مبر سے کام لو ! بے صبروں پر یہ وعدہ پورا نہ ہوگا ! “ یہ سن کر والدہ مظفر احمد خاموش ہو گسکیں۔(5) حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے لختِ جگر اور حضرت اماں جان کی گود کے پالے! آپ کے شریک سفر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے قدم قدم پر آپ کی تربیت ایسے خوبصورت انداز میں کی جوصرف آپ کا ہی حصہ تھی۔دو واقعات حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ المسیح الربع نے بیان فرمائے کہ : قادیان کا ذکر ہے ایک مرتبہ گھر کے کسی فرد کا ذکر ہوا۔گرمیوں کی شام تھی چچی جان ( حضرت اُمّ مظفر صاحبہ ) باہر صحن میں پلنگ پر بیٹھی تھیں اور عمو صاحب ( حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) مجھے بازو سے