حضرت سُمیّہ ؓ بنتِ خباط، حضرت اُمّ حرام ؓ بنتِ ملحان — Page 2
حضرت ام حرام بنت ملحان پھر مسکراتے ہوئے اٹھے اور پھر وہی خواب بیان فرمایا۔میزبان خاتون نے اب کی بار بھی دُعا کے لئے عرض کیا آ۔نے فرمایا:۔تم بھی اس جماعت کے ساتھ ہو“ حضور ﷺ کا ارشاد سن کر یہ عورت اس قدر خوش ہوئیں کہ ان کے منہ سے بے اختیار اللہ اکبر اللہ اکبر نکلا۔ان خاتون کا نام اُم حرام بن ملحان تھا۔آپ صحابیہ تھیں۔صحابی اسے کہتے ہیں جنہوں نے آنحضرت علیہ کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو، اور صحابیات سے مراد وہ خواتین ہیں جنہوں نے حضور ﷺ کا زمانہ پایا اور پھر حضور ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔بچو! اُس زمانے میں اکثر نام اسی طرح ہوتے تھے۔یعنی اتم حرام سے مراد حضرت حرام کی والدہ اور بنت ملحان سے مراد حضرت ملحان کی بیٹی ہے۔حضرت اُمّ حرام کا شمار اُن صحابیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے صلى الله حضور ﷺ سے تربیت حاصل کی اور اس طرح اپنے خاندان کی خواتین کے لئے نمونہ بن گئیں۔جس طرح حضرت ام حرام تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں، اسی طرح اُن کے دو بھائی حضرت حرام اور حضرت سلیم بھی تاریخ