حضرت سُمیّہ ؓ بنتِ خباط، حضرت اُمّ حرام ؓ بنتِ ملحان

by Other Authors

Page 3 of 23

حضرت سُمیّہ ؓ بنتِ خباط، حضرت اُمّ حرام ؓ بنتِ ملحان — Page 3

حضرت ام حرام بنت ملحان 3 صلى الله میں اپنی صحبت جو انہیں حضور ﷺ سے اور اسلام کی خاطر جانفشانی کا جذ بہ رکھتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔حضرت حرام کی شہادت تو قاتل کے مسلمان ہونے کا سبب بن گئی۔اُس زمانے کے صحابہ اور صحابیات کا ایمان بہت اعلیٰ مدارج رکھتا تھا ، کیونکہ وہ حضور ﷺ کی صحبت رکھتے تھے اور نبی کی تربیت ایک اور ہی رنگ رکھتی ہے۔ایک اور خصوصیت جو ان لوگوں میں نظر آتی ہے وہ یہ کہ یہ لوگ ہر وقت خدا کی راہ میں شہید ہونے کی تڑپ رکھتے تھے اور یہ تڑپ ہمیں حضرت حرام کی شہادت کے واقعہ میں بھی نظر آتی ہے۔حضرت حرام کو جنہوں نے شہید کیا اُن کا نام جبار بن سلمیٰ ہے جو صلى الله بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔واقعہ کچھ یوں ہے جب حضرت حرام بن ملحان کو معرکہ بیئر معونہ ( معرکہ وہ جنگ ہے جس میں آنحضرت عے خود شریک نہیں ہوئے ) میں جب قاتل جبار بن سلمیٰ نے نیزہ مارا جو ان کے سینہ سے پار ہو گیا اور خون کا ایک فوارہ نکلا۔حضرت حرام نے شہید ہوتے ہوئے فرمایا:۔فزت برب الکعبہ ، یعنی کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔اس جملہ سے مراد یہ تھی کہ آپ کو ساری زندگی شہادت کا شوق رہا اور اب جب کہ خدا تعالیٰ نے شہادت عطا کر دی تو آپ نے اپنی زندگی کا وو