حضرت سُمیّہ ؓ بنتِ خباط، حضرت اُمّ حرام ؓ بنتِ ملحان — Page 17
حضرت سمیہ بنت خباط 5 ایک مرتبہ حضرت یا سرہ، حضرت سمیہ اور ان کے بیٹوں کو مصیبت الله میں مبتلا دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:۔صبر کر و ا الہی آپ یا سر کی مغفرت فرما دے! اور تو نے ان کی مغفرت کر ہی دی۔“ بوڑھے یا سر یہ ظلم سہتے سہتے شہید ہو گئے لیکن مشرکین کو پھر بھی اس خاندان پر رحم نہ آیا۔اور انہوں نے حضرت سمیہ اور ان کے بچوں پر ظلم کا سلسلہ برابر جاری رکھا۔ایک دن حضرت سمیہ دن بھر سختیاں برداشت کر نے کے بعد شام کو گھر آئیں تو ابو جہل نے ان کو گالیاں دینی شروع کر دیں اور پھر اس قدر تیز ہوا کہ حضرت سمیہ کو برچھی مار کر شہید کر دیا۔پھر تیر مار کر بیٹے عبداللہ کو بھی شہید کر دیا۔اب صرف حضرت عمار باقی رہ گئے تھے۔وہ رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور روتے روتے اپنی والدہ کا واقعہ سنایا۔رسول علی نے ان کو صبر کی تلقین کی اور فرمایا:۔”اے اللہ ! آل یا سر کو دوزخ سے بچا !“ حضرت سمیہ کی شہادت بعثت کے چھٹے سال واقع ہوئی۔اس طرح خواتین میں آپ کو سب سے پہلے شہادت نصیب ہوئی۔حضرت سمیہ کا قاتل ابو جہل 2 ہجری میں غزوہ بدر میں قتل ہو