حضرت سُمیّہ ؓ بنتِ خباط، حضرت اُمّ حرام ؓ بنتِ ملحان

by Other Authors

Page 16 of 23

حضرت سُمیّہ ؓ بنتِ خباط، حضرت اُمّ حرام ؓ بنتِ ملحان — Page 16

حضرت سمیہ بنت خباط ย مسلمانوں کے لئے یہ ایک بہت صبر آزما وقت تھا۔مکہ کا جو شخص اسلام قبول کرتا وہ مشرکین مکہ کے غضب کا نشانہ بنتا۔مشرکین اس معاملے میں اپنے قریب ترین رشتہ داروں کا بھی لحاظ نہیں کرتے تھے۔حضرت یاسر یمن سے آئے ہوئے تھے اور حضرت سمیہ ابھی تک بنو مخزوم کی غلامی میں تھیں۔اس لئے ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنے میں کوئی چیز روکاوٹ نہ تھی۔چنانچہ انہوں نے اس بے کس، مظلوم خاندان پر ایسے ایسے مظالم ڈھائے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔حضرت یاسر اور حضرت سمیہ دونوں بہت ضعیف اور کمزور تھے۔مگر وہ اسلام پر اتنی مضبوطی سے قائم تھے کہ مشرکین کے بے پناہ مظالم بھی ان کو ایک لمحہ کے لئے بھی حق سے نہ ہٹا سکے۔ان کا ایمان پہاڑوں کی طرح مضبوط تھا ، جن کو نہ طوفان کی موجیں بہا سکیں اور نہ تیز و تند ہوائیں ان کا کچھ بگاڑ سکیں ، یہی حال ان کے بیٹوں کا تھا۔ان مظلوموں کو لوہے کی زر میں پہنا کر مکہ کی تپتی ریت پر لٹانا ، ان کی پیٹے پر گرم کو کلے رکھنا اور پانی میں غوطے دینا کفار کا روزانہ کا معمول تھا۔حضور اکرم علی حضرت سمیہ اور ان کے خاندان کے پاس سے گزرے جن کو عذاب دیا جار ہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:۔اے آل یا سر ! تمہیں خوشخبری ہو تمہارا ٹھکانہ جنت ہوگا" ย