حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ

by Other Authors

Page 16 of 25

حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ — Page 16

حضرت ام عمارة پیچھے دھکیل دیا۔16 مسلمانوں کو اب تک ایسی سخت لڑائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔حضرت خالد بن ولید نے مسلمانوں کے تمام قبائل کو الگ الگ کر دیا اور اعلان کیا کہ ہر قبیلہ اپنے علم کے نیچے لڑے تا کہ پتہ چل جائے کہ کون راہِ حق میں ثابت قدمی دکھاتا ہے اس تدبیر کا خاطر خواہ اثر ہوا ہر قبیلے نے شجاعت اور ثابت قدمی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی اور اس جانبازی سے لڑے کہ مسیلمہ کی فوج کو بھاگ کر حدیقۃ الرحمن میں محصور ہونا پڑا۔(11) حضرت براء بن مالک دیوار پھاند کر باغ کے اندر کو دگئے اور لڑتے بھڑتے باغ کے دروازے کو کھول دیا۔اب مرتدین اور مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن لڑائی شروع ہو گئی۔جنگ یمامہ میں حضرت اُم عمارہ بھی شروع سے لے کر اب تک بڑے جوش اور جذب سے لڑ رہی تھیں۔انہوں نے کئی بار مسیلمہ تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن ہر بار بنو حنیفہ کی آہنی دیوار راستے میں حائل ہو جاتی۔حضرت خالد بن ولید بھی مسلسل مسیلمہ کو جہنم داخل کرنے کی فکر میں تھے لیکن انہیں موقع نہیں مل رہا تھا۔بارہ سو کے قریب مسلمان جام شہادت نوش کر چکے تھے۔جن میں حضرت زید بن خطاب ،حضرت ابو حنیفہ،