حضرت اُمِّ عمّارہ ؓ — Page 8
حضرت ام عمارة 8 حالات کو دیکھتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو بھی جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور آپس میں مشورے سے مدینہ سے باہر جنگ کرنے کا ارادہ کیا۔مسلمان خواتین کو جب لشکر کی روانگی کی خبر ہوئی تو حضرت ام عمارہ دوسری مسلمان خواتین کے ساتھ رسول کریم میے کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کی ہمیں بھی جنگ میں شمولیت کی اجازت دیں تا کہ دوران جنگ ہم فوج کو پانی پلانے اور زخمیوں کی مرہم پٹی میں آپ ﷺ کی اور مسلمانوں کی مدد کریں۔تاریخ اسلام میں یہ غزوہ حضرت اُمِ عمارہ کی دلیری کی وجہ سے ہمیشہ یادر ہے گا۔اس جنگ میں حضرت ام عمارہ نے اپنے خاوند اور دو بیٹوں کے ساتھ شرکت کی۔آپ اور آپ کے بیٹوں نے میدانِ جنگ میں جس طرح دشمن کی تلواروں اور تیروں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔اسلامی تاریخ اسے فراموش نہیں کر سکتی۔حضرت ام عمارہ جنگ اُحد میں زخمیوں کو پانی پلاتی پھر رہی تھیں، جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کو خطرات میں گھرا پایا تو ان سے برداشت نہ ہوا آپ نے مشکیزہ وہیں زمین پر بلخ کر تلوار اٹھائی اور حضور اللہ کے قریب پہنچ کر کفار کے سامنے سینہ سپر ہو گئیں۔آنحضرت عہ اس وقت حضرت اُمِ عمارہ کی اس بہادری اور