حضرت اُمّ الفضل لبابۃُ الکبریٰ ؓ

by Other Authors

Page 11 of 20

حضرت اُمّ الفضل لبابۃُ الکبریٰ ؓ — Page 11

حضرت ام الفضل لبابة الكبرى 11 تھیں اور آپ کے شعر اور مر مجھے بہت خوبصورت تھے۔(7) آپ کے شوہر حضرت عباس کی کنیت ابو الفضل تھی۔یہ صلى الله نبی کریم ﷺ سے تقریبا تین سال پہلے پیدا ہوئے۔ان کا تعلق قبیلہ النمر سے تھا۔حضرت عباس نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔حضرت عباس کا شمار قریش کی مشہور ہستیوں میں ہوتا تھا۔قریش نے عباس کو ” ذوالرائی“ کا خطاب دے رکھا تھا۔کیونکہ تمام اہم معاملات میں ان سے مشورہ لیتے تھے۔نبی پاک ﷺ نے جب دعوت حق پہنچانے کا آغاز کیا تو سب سے پہلے لبیک کہنے والی خاتون ان کی اہلیہ ام الفضل تھیں (حضرت خدیجہ کے بعد )۔اس وقت گو کہ حضرت عباس نے کھلم کھلا صلى الله اسلام قبول نہ کیا لیکن نبی کریم علیہ کی حفاظت کرنے اور مدد میں کوئی کمی نہ رہنے دی۔غزوہ بدر میں عباس کفار کی طرف سے لڑے اور قیدی بن کر مسلمانوں کے پاس آئے تاریخ میں آتا ہے کہ ان قیدیوں کے کپڑے پھٹ گئے تھے۔عباس لمبے قد کاٹھ کے تھے کسی کا کپڑا ان کو پورا نہ آتا تھا۔اس موقع پر عبد اللہ بن ابی رئیس نے ( جو کہ منافق تھا) نے اپنا کرتہ منگوا کر عباس کو پہنایا۔اور جب اس منافق کی موت ہوئی تو نبی کریم اللہ نے اپنے چچا عباس پر کیے جانے والے احسان کو اس طرح اتارا کہ اپنا