حضرت اُمّ الفضل لبابۃُ الکبریٰ ؓ — Page 5
حضرت ام الفضل لبابة الكبرى 5 نہ کیا تھا) ابھی ابھی لڑائی سے واپس آیا ہے۔اس سے لڑائی کے حالات معلوم کرنے چاہئیں۔ابولہب نے جب ابوسفیان کو دیکھا تو آواز دی بھیجے ذرا ادھر تو آؤ میرے پاس ! ذرا بتاؤ تو لڑائی میں کیا گزری؟“ وو ابوسفیان نے جواب دیا:۔”واللہ ! مسلمانوں کے سامنے ہماری بے بسی کا یہ عالم تھا جیسے مردہ غسل دینے والے کے سامنے بے بس ہوتا ہے۔انہوں نے جس کو چاہا مارڈالا اور جس کو چاہا قید کر لیا۔ایک عجیب نظارہ ہم نے یہ دیکھا کہ ابلق (سیاہ وسفید رنگ والے گھوڑوں پر سوار سفید پوش آدمیوں نے مار مار کر ہمارا بکر تا بنا دیا۔معلوم نہیں یہ کون لوگ تھے ؟ ابو رافع نے جھٹ کہا ”وہ تو فر شتے تھے !“ یہ سنا تھا کہ ابولہب کے تن بدن میں آگ لگ گئی ، بھڑک کر اٹھا اور ابو رافع کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا۔ابورافع نے اپنے آپ کو ذرا سا سنبھالا اور اس کے ساتھ گتھم گتھا ہو گئے۔لیکن جسمانی لحاظ سے چونکہ کمزور تھے ابو لہب نے جلد ہی ان کو زمین پر پٹخا اور مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔قریب ہی ایک خاتون بیٹھی تھیں وہ اس منظر کو برداشت نہ کر سکیں۔فورا اٹھیں اور ایک موٹی سی لکڑی کا ٹکڑا لے آئیں اور اس زور سے